منگل، 5 اپریل، 2022

Shortclip - دین اسلام کیا ہے؟

Shortclip - ہماری اصل کامیابی کیا ہے؟

حضرت عمر کی نصیحت

 

حضرت عمر کی نصیحت

حضرت موسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں،میں اہل بصرہ کے ایک وفد کے ساتھ حضرت عمر ابن خطابؓ کے پاس مدینہ منورہ آیا ۔ہم انکی خدمت میں حاضر ہواکرتے تو دیکھتے کہ ان کیلئے روزانہ ایک روٹی توڑ کر لائی جاتی ہے وہ اسے کبھی گھی سے، کبھی تیل سے اور کبھی دودھ سے کھالیتے ہیں۔کبھی دھوپ میں خشک کیے ہوئے گوشت کے ٹکڑے بھی لائے جاتے جو محض پانی میں ابلے ہوئے ہوتے تھے۔ ایک دن حضرت عمرؓ نے ہم سے فرمایا واللہ ! اگر میں چاہتا توتم سب ہی ،سب سے زیادہ عمدہ کھانے والاہوتا۔ اورتم سب سے زیادہ نازونعمت کی زندگی گزارتا۔ غور سے سنوقسم بخدا!میں اونٹ کے سینے اورکوھان کے بھنے ہوئے گوشت ،چپاتیوں اور رائی کی چٹنی سے ناواقف نہیں ہوں لیکن میں انھیں دانستہ استعمال میں نہیں لاتا۔ میں نے ایک قوم کے بارے میں اللہ کا ارشاد سنا ہے۔ ’’تم اپنی لذت کی چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں برت چکے ہواوران سے خوب حظ اٹھا چکے ہو۔‘‘میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔تم امیرالمونین  سے بات کرو کہ تمہارے لیے بیت المال سے کچھ کھانا مقرر کردیں۔ ان لوگوں نے حضرت عمر سے بات کی ،آپ نے فرمایا کیا تم لوگ اپنے لیے وہ روزینہ پسند نہیں کرتے جو میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔ ان لوگوں نے کہا،ہم مدینہ منورہ میں رہ نہیں سکتے ،آپ کا کھانا ایسانہیں کہ کوئی اسے کھانے کیلئے آپکے پاس آئے۔ہم لوگ سرسبز وشاداب علاقے کے رہنے والے ہیں ،  ہمارے امیر ایسے لوگ ہیں کہ لوگ شوق سے انکے پاس آتے ہیں اوران کا کھانا ایسا ہوتا ہے کہ خوب سیر ہوکر کھایا جاتا ہے۔ یہ سن کر آپ نے تھوڑی دیر اپنا سرجھکایا، اورارشادفرمایا: میں تم لوگوں کیلئے بیت المال سے روزانہ دوبکریاں اورآٹے کی دوتھیلیاں مقرر کردیتا ہوں۔ایک بکر ی صبح ذبح کرو اور ایک تھیلی سے روٹیاں پکا لیاکروخود بھی کھائو اوراپنے ساتھیوں کو بھی کھلائو۔پھر حلالِ مشروب منگوا کر پہلے خود پیئو پھر اپنے دائیں طرف والے کو پلائو اورپھر اسکے ساتھ والے کو پھر اپنے کام کیلئے کھڑے ہوجائو اور پوری تندھی سے اپنے فرائض سرانجام دو ۔ غور سے سنو تم عام لوگوں کے گھروں میں اتنا بھیجو کہ ان کا پیٹ بھرجائے ۔اورانکے اہل وعیال کو کھلائو۔ یا درکھو! اگر تم منصب دار لوگ،عوام سے بداخلاقی سے پیش آئو گے تو عام لوگوں کے اخلاق اچھے نہیں ہوسکیں گے ۔اورانکے بھوکوں کے کھانے کا انتظام نہیں ہوسکے گا۔ اللہ کی قسم اس سب کے باوجود میرا خیال یہ ہے کہ جس قصبے کے بیت المال سے حکام کیلئے روزانہ دو بکر یاں اورآٹے کی دو بوریاں لی جائیں گی وہ جلد اجڑ جائیگا۔ (کنزالعمال )

پیر، 4 اپریل، 2022

Shortclip - قرآن سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ

Shortclip - ہم دنیا میں کیوں آئے ہیں؟

اخلاص ِامیر

 

اخلاص ِامیر

عتبہ بن فرقد علیہ الرحمۃ کہتے ہیں، میں کھجور اور گھی کے بنے ہوئے حلوے کے ٹوکرے لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے استفسار فرمایا یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: کھانے کی چیز ہے۔ آپ صبح سے عوام الناس کی خدمت میں سرگرم ہوجاتے ہیں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ جب آپ کارِ خدمت سے فارغ ہوکر گھر جائیں تو اس میں سے کچھ تناول فرما لیا کریں۔ آپکی جانِ عزیز کو طاقت وتوانائی اور طراوت حاصل ہوجایا کریگی اور آپ مزید تندہی سے مسلمانوں کے امور بجا لائیں گے۔ حضرت عمر نے ٹوکرا کھول کر دیکھا۔ فرمایا: عتبہ! میں تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم نے ہر مسلمان کو حلوے کا ایک ایسا ٹوکرا دے دیا ہے۔ میں نے عرض کیا‘ امیرالمومنین! میں قبیلہ قیس کا سارا مال بھی خرچ کردوں یہ پھر بھی ممکن نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: پھر مجھے بھی تمہارے اس حلوے کی ضرورت نہیں ہے۔
کھانے کا وقت ہو چکا تھا‘ آپ نے ایک بڑا پیالہ منگوایا جس میں سخت روٹی اور سخت گوشت کے ٹکڑوں سے بنا ہوا ثرید تھا۔ آپ نے مجھے بھی شریک طعام فرمایا۔ حضرت عمر میرے ساتھ اس سالن کو بڑی رغبت سے تناول فرما رہے تھے۔ میں کوھان کی چربی سمجھ کر ایک سفید ٹکڑے کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو اسے اٹھانے کے بعد پتہ چلتا کہ یہ تو پٹھے کا ٹکڑا ہے۔ میں ناچار گوشت کے اسی ٹکڑے کو چبانے لگتا، لیکن وہ اتنا سخت ہوتا کہ میں اسے نگل نہ پاتا، جب حضرت عمر کی توجہ ادھر ادھر ہوجاتی تو میں گوشت کے اس ٹکڑے کو منہ سے نکال کر پیالے اور دسترخوان کے درمیان چھپا دیتا۔
کھانے سے فارغ ہوکر حضرت عمر نے نبیذ کا ایک ایسا پیالہ منگوایا جس میں ترش شربت تھا جو سرکہ بننے والا تھا۔ انہوں نے مجھے پیش کیا۔ میں اسے لے کر پینے لگا، لیکن بڑی مشکل سے حلق سے نیچے اتار سکا۔ انہوں نے وہ پیالہ مجھ سے لے لیا اور اسے پی گئے۔ پھر فرمانے لگے‘ اے عتبہ سنو! ہم روزانہ ایک اونٹ ذبح کرتے ہیں اور اسکی چربی اور عمدہ ونرم گوشت سے ان مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں۔ جو مدینہ منورہ میں باہر سے تشریف لاتے ہیں۔ اسکی گردن آل عمر کے حصہ میں آتی ہے‘ وہ یہ سخت گوشت کھاتے ہیں۔ اور پھر یہ باسی اورترش نبیذ پیتے ہیں تاکہ یہ پیٹ میں جاکر گوشت کے ٹکڑے ٹکڑے کرے۔ اسے نرم کردے، یہ سخت گوشت ہمیں تکلیف نہ دے سکے اور باآسانی ہضم ہوجائے۔ (کنزالعمال)

حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور

  حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور اللہ تعالی کے جمال کا آئینہ اور انوار تجلیات کا مظہر تھا ۔ آپ ﷺ کا چہرہ انور نہا...