اللہ تعالی کی طرف سے بہت ہی آسان فلاح کا راستہ سنیے اور عمل کیجئے تاکہ ہم سب فلاح پا لیں . ہر قسم کی تفرقہ بازی اور مسلکی اختلافات سے بالاتر آسان اور سلیس زبان میں
اتوار، 12 مئی، 2024
ہفتہ، 11 مئی، 2024
اولاد کے حقوق
اولاد کے حقوق
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کا اچھا نام رکھے ۔ بچے کے اوصاف میں اس کا نام بھی شامل ہے ۔ حضرت ابوداﺅد ؓسے روایت ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم قیامت میں اپنے ناموں اور اپنے باپوں کے ناموں سے پکارے جاﺅ گے اس لیے اپنے نام اچھے رکھو۔اپنے بچوں کے نام عبد اللہ ، عبد الرحمن ، محمد ،احمد یا پھر نیک لوگوں کے نام پر رکھنے چاہیے اس سے برکت ہو گی ۔آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے ناموں میں اللہ تعالی کو جو نام سب سے زیادہ پسند ہیں وہ عبد اللہ اور عبد الرحمن ہیں ۔ (مسلم شریف) ۔
بچے کی پیدائش پر ساتویں دن عقیقہ کرنا سنت ہے ۔ حضرت سلیمان بن عامر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا : لڑکے کا عقیقہ ہے اس کی طرف سے خون بہاﺅ اور اس سے تکلیف دور کرو ( بخاری شریف)۔
بچے کی پیدائش کے ساتویں دن اس کا سر منڈوایا جائے اور اس کے سر پر زعفران لگایا جائے اور اس کے بالوں کے برابر چاندی خیرات کی جائے ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا : اے فاطمہ حضرت حسن کا سر مونڈ کر اس کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کرو ، جب انہوں نے بالوں کا وزن کیا تو ایک درھم یا اس سے کم تھا ۔ (جامع ترمذی )
بچے کی پیدائش پر اس کے ختنہ کرنا سنت اور شعائر اسلام میں سے ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں : ختنہ کرنا ، موئے زیر ناف صاف کرنا ، مونچھیں کتروانا ، ناخن کٹوانا اور بغل کے بالوں کو اکھاڑنا ۔ (بخاری شریف)
جب بچہ پیدا ہو تو اس کو دودھ پلانا بھی اولاد کے حقوق میں شامل ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”اور مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلائیں پورے دو سال اس کے لیے جو دودھ کی مدت پوری کرنی چاہیے اور جس کا بچہ ہے اس پر عورتوں کا کھاناپینا ہے حسب دستور ہے “۔ ( سورة البقرہ )
اسلام نے اولاد کو قتل کرنے سے منع فرمایا : ارشاد باری تعالی ہے : ”جن لوگوں نے اپنی اولاد کو علم کے بغیر بے وقوفی سے قتل کیا بیشک وہ نقصان اٹھانے والے ہیں (سورة الانعام )۔ سورة بنی اسرائیل میں ارشاد باری تعالی ہے : اور اپنی اولادکو غربت کے خوف سے قتل نہ کرو ہم ان کو بھی اور تمہیں بھی رزق دیتے ہیں ۔ بیشک ان کو قتل کرنا بہت برا جرم ہے ۔جب بچہ بولنے لگے تو والدین کو چاہیے کہ سب سے پہلے لفظ اللہ اس سے کہلوایا جائے اور پہلا کلمہ پڑھایا جائے ۔ بیہیقی
کی حدیث ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اپنے بچوں کو سب سے پہلے کلمہ ”لاالہ الا اللہ “ سکھاﺅ ۔ والدین کو چاہیے کہ بچے کو پہلا کلمہ پورا پڑھائے تا کہ اسے حضور نبی کریم ﷺ کی بھی پہچان ہو ۔
جمعہ، 10 مئی، 2024
اولاد کے حقوق(۱)
اولاد کے حقوق(۱)
اسلام میں جہاں والدین کے حقوق بیان کئے گئے ہیں وہیں کچھ حقوق اولادکے بھی ہیں جن کو پورا کرنا والدین کی ذمہ داری ہے ۔ جس طرح بڑوں کا ادب و احترام کرنے کا حکم دیا گیا ہے اسی طرح چھوٹوں پر شفقت کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کا ادب نہیں کرتا۔نیک اولاد اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ نیک اولاد کے لیے دعا کرنا اور اولاد کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کرنا انبیاء کرام علیہ السلام کی سنت ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب فرشتوں نے اولاد کی خوشخبری سنائی تو ان کی بیوی مسکرا پڑیں ۔
سورۃ ھود میں ارشاد باری تعالی ہے : بیشک جب فرشتے ابراہیم (علیہ السلام ) کے پاس بشارت لے کر آئے انہوں نے کہا سلام ہو ۔ اور آپ کی بیوی کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی تو ہم نے اسے اسحق کی خوشخبری دی اور اسحق کے بعد یعقوب کی ۔اگر اللہ تعالی بیٹے کی بجائے بیٹی عطا کر دے تو اس پر بھی خوش ہونا چاہیے نہ کہ پریشان ۔
عبرانی کی روایت ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب کسی کے گھر لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالی اس کے گھر فرشتے بھیجتا ہے جو آکر کہتے ہیں ۔ گھر والو تم پر سلامتی ہو ۔اور فرشتے بچی کو اپنے سائے میں لے لیتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں یہ کمزور جان ہے اور کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے ۔ جو اس کی پرورش اور تربیت کرے گی ۔ روز محشر اللہ تعالی اس کی مدد کرے گا ۔ جب پیدا ہو تو اس کے کان میں اذان دینی چاہیے۔ حضرت عبد اللہ بن ابو رافع روایت کرتے ہیں جب حضرت امام حسن ؓ پیدا ہوئے تو حضور نبی کریم ﷺ نے آپ کے کان میں نماز کی اذان جیسی اذان کہی ۔ (ترمذی ) ۔ بہیقی شرف میں ہے حضورﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کے گھر میں بچہ پیدا ہو وہ اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہے تو وہ بچہ ام ا لصبیان بیماری سے محفوظ رہے گا ۔ بچے کے کان میں اذان کے بعد کوئی میٹھی چیز اس کے منہ میں ڈالنا حضور ﷺ کی سنت مبارکہ ہے ۔
حضرت اسماء ؓ روایت کرتی ہیں کہ جب ابن زبیر پیدا ہوئے تو میں اسے حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں لے کر حاضر ہوئی۔ آپ ﷺ نے اسے گود میں بیٹھایا کھجور منگوائی اور اسے چبا کر اس کے منہ میں ڈال دی ۔ سب سے پہلے بچے کے پیٹ میں آپ ﷺ کا لعاب گیا ۔ پھر آپ نے کجھور اس کے تالو پر لگائی اس کے حق میں دعا کی اور اس پر مجھے مبارکبا د دی ۔ (بخاری)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
باطنی بیماریا ں اور ان کا علاج
باطنی بیماریا ں اور ان کا علاج آج کے دور میں انسان اپنی جسمانی بیماریوں کا علاج تو بڑی فکر اور بہترین ڈاکٹر سے کرواتا ہے اور انسان ظاہری ...
-
ولادت مصطفی ﷺ حضور نبی کریم ﷺ کی آمد سے قبل عرب اور پوری دنیا کے حالات بہت خراب تھے ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی ۔لوگ کفر شرک میں مبتلا تھے...
-
ذکر الٰہی کی فضیلت و فوائد (۲) حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’نبی رحمتﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہترین عمل ک...
-
رحمتِ کونین ﷺ(۲) حضور نبی کریم ﷺ کی زندگی میں بحثیت رحمۃ اللعالمین بے شمار واقعات ملتے ہیں ۔ آپ رحمۃ اللعالمین ہی ہیں جو مجبور اور بے سہا...

