ہفتہ، 4 مئی، 2024

مصیبت اللہ کا عذاب یا آزمائش(۱)

 

مصیبت اللہ کا عذاب یا آزمائش(۱)

اللہ تعالی اپنے بندوں سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور ان پر اپنی رحمتوں کی برسات کرتا ہے ۔ اللہ تعالی نے اپنے بندوںکو بے حساب نعمتوں سے نوازا ہے جن کا شما ر نہیں کیا جا سکتا ۔ لیکن اس کے باوجود اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انسان کی زندگی میں بہت ساری پریشانیاں اور مصائب بھی آتے ہیں ۔ مصیبتوں کے مقابلے میں اللہ تعالی کی نعمتیں بہت زیادہ ہیں لیکن اس کے باوجود اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے تو ہمیشہ اسکو یاد رکھتا ہے اور وہ ایک مصیبت اللہ کی بے شمار نعمتوں پر بھاری محسوس ہونے لگ جاتی ہے ۔ 
ہر کسی پر مصیبت آنے کی وجہ ایک ہی نہیں ہوتی بلکہ بندوں کے اعمال مختلف ہونے کی وجہ سے مصائب آنے کی وجوہات بھی مختلف ہوتی ہیں ۔ کسی گنہگار اور فاسق فاجر پر جو مصیبت آتی ہے وہ اس پر اللہ تعالی کی طرف سے عذاب ہوتا ہے اور وہ مصیبت اس کی گرفت کی صورت ہوتی ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : اور اللہ تعالی نے ایک بستی کی مثال دی ۔ جو بڑی پر امن اور مطمئن تھی ۔ اس کا رزق ہر جگہ سے بہت کھلا چلا آتا تھا۔تو اس نے اللہ تعالی کی نعمتوں سے کفر کیا ۔ تو اللہ تعالی نے اس بستی کے رہنے والوں کے اعمال کی وجہ سے انہیں بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا ۔( سورۃ النحل ) 
سورۃ الاعراف میں ارشاد باری تعالی ہے : ’’اور اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے حق سے انکار کیا تو ہم نے ان کے اعمال کے سبب ان کی گرفت کر لی ۔ ‘‘یعنی ان بستی والوں پر جو مصیبتیں نازل ہوئیں وہ ان کے اعمال کا نتیجہ تھیں ۔ 
بنی اسرائیل کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی سورۃ الاعراف میں ارشاد فرماتا ہے :’’ اور ہم نے آل فرعون کو قحط اور پیداوارکی کمی میں مبتلا کیا تا کہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔ ان پر اللہ تعالی نے یہ مصیبت اس لیے نازل کی کہ وہ اپنی غلطیوں سے باز آ جائیں اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں توبہ کر لیں ۔اس کے باوجود جب وہ اپنی عادتوں سے باز نہ آئے اور نعمت کو اپنا استحقاق سمجھتے رہے اور مصیبت کو حضرت موسی علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے رہے تو اللہ تعالی نے ان پر عذاب نازل کیا ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ’’پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا ، ٹڈیاں ، جوئیں ، مینڈک ، خون اور کتنی ہی کھلی نشانیاں بھیجیں ۔ پھر انہوں نے نا فرمانی کی اور وہ لوگ مجرم تھے ۔ 

جمعہ، 3 مئی، 2024

شرک کی حقیقت

Surah Al-Isra (سورة بنیٓ اسرآئیل / الإسرَاء) Ayat 104-106.صرف کلام الہی...

Surah Al-Isra (سورة بنیٓ اسرآئیل / الإسرَاء) Ayat 103.کیا ہم نفس و شیطا...

معاشرتی حقوق (۲)

 

معاشرتی حقوق (۲)

اسلام سے پہلے حاکم وقت رعایا میں سے کسی کو بھی بغیر کسی ثبوت اور دلائل کہ محض شک اور گمان کی بنا پر قید کر دیتا بلکہ کسی بے گناہ کو پھانسی کی سزا سنا کر اس کا سر قلم کر دیا جاتا ۔ اسلام نے وقت کے حاکم اور جابر حکمرانوں کو سختی سے اس بات سے منع کیا کہ جب تک جرم دلائل سے ثابت نہ ہو قتل کرنا تو دور کی بات اس کو قید بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ 
حضرت عمر ؓ کے دورخلافت میں جب مصر فتح ہوا تو حضرت عمر بن العاص کے بیٹے نے گھوڑ دوڑ کا اہتما م کرایا۔اس دوڑ میں مصر کا ایک قبطی باشندہ بھی شامل تھا جو کہ یہ دوڑ جیت گیا تو حضرت عمر بن عاص کے بیٹے کو غصہ آیاتو اس نے اس قبطی سوا ر کو بیدوں سے مارا ۔ تو وہ شکایت لے کر مدینہ منورہ حضرت عمر ؓ کے پاس آیا ۔
 حضرت عمر ؓنے حضرت عمر بن العاص ؓ اور اس کے بیٹے کو بلایا اور قبطی کو اپنا درہ دے کر فرمایا کہ اسے اتنے ہی درے ماروجتنے اس نے تجھے مارے تھے ۔حضرت عمر ؓ نے بڑے غصے سے عمر بن العاص ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
 اے عمر بن العاص تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام سمجھ لیا ہے حالانکہ ان کی ماﺅں نے انہیں آزاد جنا ہے ۔ 
اسلام سے پہلے حکمران اس بات کو اپنا حق سمجھتے تھے کہ کسی کا بھی زبردستی مذہب تبدیل کر وا لیتے لیکن اسلام نے اس کی مذمت کی ۔ ارشاد باری تعالی ہے : دین میں کوئی زبر دستی نہیں ہے بیشک ہدایت خوب واضح ہوگئی ہے گمراہی سے ۔( سورة البقرة )
اسلامی ریاست کا ہر شہری امیر ہو یا غریب ، کسی معزز خاندان کا ہو یا پھر کسی غریب خاندان کا قانون کی نظر میں سب برابر ہیں ۔ حضور نبی کریم ﷺ کے دور میں جب قریش کی ایک عورت کو چوری کے جرم میں حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو حضرت اسامہ بن زید نے اس کی سفارش کی ۔ یہ سن کر آپ ﷺ کا چہرہ غصہ سے سرخ ہو گیا ۔آپ نے فرمایا کہ تم سے پہلے قومیں اس لیے تباہ ہو گئیں کہ جب کوئی امیر چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی غریب تو اسے سزا دی جاتی تھی ۔ خدا کی قسم اگر فاطمہ بنت محمد بھی ہوتی تو میں اس کے ہاتھ بھی کاٹ دیتا ۔ اسلام نے بغیر اجازت کسی کے گھر داخل ہونے سے منع فرمایا :
 ارشاد باری تعالی ہے : اے ایمان والو نہ داخل ہوا کرو دوسروں کے گھروں میں اپنے گھروں کے سوا جب تک اجازت نہ لے لو اور سلام نہ کر لو ان گھروں میں رہنے والوں پر یہی بہتر ہے تمہارے لیے شاید تم غور کرو ۔ ( سورة النور ) 

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۱)

  سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۱) ارشاد باری تعالی ہے :”اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی مردوں کے لیے ان...