بدھ، 6 اپریل، 2022

Shortclip - ہمیں یقین کی دولت کیسے ملے گی؟

Shortclip - کیا انسان مردہ پیدا ہوا ہے؟

اندیشہ

 

اندیشہ

حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں،بصرہ کی جامع مسجد میں ایک مجلس آراستہ تھی،میں ان کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کرام حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے زُہد وتقویٰ اورفضائل ومحاسن کا تذکرہ کررہے تھے ۔

حضرت احنف بن قیس تمیمی رضی اللہ عنہ نے اپنا قصہ یوں بیان فرمایا:ہمیں حضرت عمر بن خطاب نے ایک جماعت کے ساتھ عراق بھیجا،اللہ نے ہمیں عراق اورفارس میں بہت سی فتوحات عطا ء فرمائیں۔ ہمیں فارس اورخراسان کے سفید کپڑے ملے جو ہم نے پہننا شروع کردیے ۔کامیابی سے اپنی مہم سر کرنے کے بعد ہم لوگ مدینہ منورہ میں حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے ،آپ نے ہمیں دیکھا تو اپنا چہرہ پھیر لیا اورہم سے کوئی بات نہ کی۔جو صحابہ کرام ہمارے ساتھ تھے انہیں آپکے رویے سے سخت پریشانی ہوئی ۔

ہم لوگ آپ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور آپکی بے رخی کی شکایت کی انھوں نے کہا امیر المومنین تم سے اس وجہ سے کبیدہ خاطر ہوئے ہیں کہ تم نے ایسا لباس پہننا ہوا ہے جو نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہننا اورنہ ہی حضرت ابوبکر صدیق نے ۔آپ ان دو حضرات کی روش سے ہٹنا قطعاً ناپسند فرماتے ہیں،یہ سنتے ہی ہم لوگ اپنے گھر وں کو واپس لوٹ گئے اور ایرانیوں ،خراسانیوں کی وضع قطع والے وہ کپڑے اتار دیے اور وہ سادہ اور صاف ستھرے لباس پہن لیے جو ہم پہلے استعمال کیا کرتے تھے۔اور دوبارہ امیر المومنین کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوگئے ۔اس دفعہ وہ ہمارے استقبال کیلئے کھڑے ہوگئے ایک ایک کو الگ الگ سلام بھی کیا اور ہر ایک سے فرداً فرداً معانقہ بھی کیا۔ اس گرم جو شی سے ملے کہ گویا انھوں نے ہمیں پہلی بار دیکھا ہے ۔ہم نے حاصل شدہ مالِ غنیمت آپکی خدمت میں پیش کیا جسے آپ نے ہمارے درمیان برابربرابر تقسیم کردیا ۔پھر وہاں سے موصول ہونے والے کجھور اورگھی کے بنے ہوئے سرخ اورزرد رنگ کے خستہ حلوے کے ٹوکرے آپکے سامنے پیش کیے گئے ۔آپ نے انہیں چکھا تو وہ بہت لذیذ اورخوشبودار محسوس ہوا۔آپ ہم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشادفرمایا :اے گروہِ مہاجرین وانصار اللہ کی قسم ! مجھے صاف دیکھائی دے رہا ہے کہ ایسی لذتوں کی وجہ سے تم میں سے بیٹا اپنے باپ کو اور بھائی اپنے بھائی کو ضرور قتل کرے گا۔پھر آپ نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دیا اور اسے ان مہاجرین وانصار کی آل اولاد میں تقسیم کردیا گیا جنہوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جامِ شہادت نوش فرمایا تھا ۔(کنز العمال)


منگل، 5 اپریل، 2022

Shortclip - دین اسلام کیا ہے؟

Shortclip - ہماری اصل کامیابی کیا ہے؟

حضرت عمر کی نصیحت

 

حضرت عمر کی نصیحت

حضرت موسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں،میں اہل بصرہ کے ایک وفد کے ساتھ حضرت عمر ابن خطابؓ کے پاس مدینہ منورہ آیا ۔ہم انکی خدمت میں حاضر ہواکرتے تو دیکھتے کہ ان کیلئے روزانہ ایک روٹی توڑ کر لائی جاتی ہے وہ اسے کبھی گھی سے، کبھی تیل سے اور کبھی دودھ سے کھالیتے ہیں۔کبھی دھوپ میں خشک کیے ہوئے گوشت کے ٹکڑے بھی لائے جاتے جو محض پانی میں ابلے ہوئے ہوتے تھے۔ ایک دن حضرت عمرؓ نے ہم سے فرمایا واللہ ! اگر میں چاہتا توتم سب ہی ،سب سے زیادہ عمدہ کھانے والاہوتا۔ اورتم سب سے زیادہ نازونعمت کی زندگی گزارتا۔ غور سے سنوقسم بخدا!میں اونٹ کے سینے اورکوھان کے بھنے ہوئے گوشت ،چپاتیوں اور رائی کی چٹنی سے ناواقف نہیں ہوں لیکن میں انھیں دانستہ استعمال میں نہیں لاتا۔ میں نے ایک قوم کے بارے میں اللہ کا ارشاد سنا ہے۔ ’’تم اپنی لذت کی چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں برت چکے ہواوران سے خوب حظ اٹھا چکے ہو۔‘‘میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔تم امیرالمونین  سے بات کرو کہ تمہارے لیے بیت المال سے کچھ کھانا مقرر کردیں۔ ان لوگوں نے حضرت عمر سے بات کی ،آپ نے فرمایا کیا تم لوگ اپنے لیے وہ روزینہ پسند نہیں کرتے جو میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔ ان لوگوں نے کہا،ہم مدینہ منورہ میں رہ نہیں سکتے ،آپ کا کھانا ایسانہیں کہ کوئی اسے کھانے کیلئے آپکے پاس آئے۔ہم لوگ سرسبز وشاداب علاقے کے رہنے والے ہیں ،  ہمارے امیر ایسے لوگ ہیں کہ لوگ شوق سے انکے پاس آتے ہیں اوران کا کھانا ایسا ہوتا ہے کہ خوب سیر ہوکر کھایا جاتا ہے۔ یہ سن کر آپ نے تھوڑی دیر اپنا سرجھکایا، اورارشادفرمایا: میں تم لوگوں کیلئے بیت المال سے روزانہ دوبکریاں اورآٹے کی دوتھیلیاں مقرر کردیتا ہوں۔ایک بکر ی صبح ذبح کرو اور ایک تھیلی سے روٹیاں پکا لیاکروخود بھی کھائو اوراپنے ساتھیوں کو بھی کھلائو۔پھر حلالِ مشروب منگوا کر پہلے خود پیئو پھر اپنے دائیں طرف والے کو پلائو اورپھر اسکے ساتھ والے کو پھر اپنے کام کیلئے کھڑے ہوجائو اور پوری تندھی سے اپنے فرائض سرانجام دو ۔ غور سے سنو تم عام لوگوں کے گھروں میں اتنا بھیجو کہ ان کا پیٹ بھرجائے ۔اورانکے اہل وعیال کو کھلائو۔ یا درکھو! اگر تم منصب دار لوگ،عوام سے بداخلاقی سے پیش آئو گے تو عام لوگوں کے اخلاق اچھے نہیں ہوسکیں گے ۔اورانکے بھوکوں کے کھانے کا انتظام نہیں ہوسکے گا۔ اللہ کی قسم اس سب کے باوجود میرا خیال یہ ہے کہ جس قصبے کے بیت المال سے حکام کیلئے روزانہ دو بکر یاں اورآٹے کی دو بوریاں لی جائیں گی وہ جلد اجڑ جائیگا۔ (کنزالعمال )

خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۱)۔

  خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۱)۔ اسلامی تاریخ ایسی پاکیزہ اور باکمال شخصیات سے مزین ہے جنہوں نے اپنی بے مثال سیرت ، اعلی کردار اور بے لوث ...