پیر، 4 اکتوبر، 2021

اذان

 

اذان

حضور اکرم ﷺ کی مدینہ منورہ میں تشریف آوری کے بعد آپکی اقتداء میں ادائیگی نماز کا سلسلہ شروع ہوا، نماز کے اوقات میں صحابہ کرام ازخود جمع ہوجاتے اور جماعت ہوجاتی۔ جب نمازیوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوگیاہے۔تو اب ضرورت محسوس ہوئی کہ کوئی شعار ایسا ہونا چاہیے جس سے جماعت کا اعلان ہو جائے۔

اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے ایک مجلس مشاورت منعقد کی گئی ایک تجویز یہ پیش ہوئی کہ نماز کے وقت ایک پرچم اونچا کرکے لہرایا جائے۔ سب لوگ اسے دیکھ کر مسجد میں پہنچ جائیں، ایک مشورہ یہ پیش ہوا کہ نماز سے پہلے بگل بجایا جائے لیکن حضور سید عالم ﷺنے فرمایا: یہ یہودیوں کا طریقہ ہے۔ ہمیں ان سے مشابہت نہیں کرنی چاہیے ۔ ایک صاحب نے تجویز دی کہ ناقوس پھونکا جائے۔ آپ نے فرمایا :یہ عیسائیوں کا طریقہ ہے، کسی نے رائے دی کہ ایک اونچے مقام پر آگ روشن کردی جائے۔ اس شعلوں کو دیکھ کر لوگ مطلع ہوجائینگے۔آپ نے اسے ’’شیوۂ مجوس‘‘ ہونے کی وجہ سے مسترد فرما دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ نماز کا وقت ہو تو ایک شخص بلند آواز سے اس کا اعلان کرے۔ آپکی اس تجویز پر صاد فرمایا اور حضرت بلال ؓ کو حکم دیا کہ وہ اوقاتِ نماز کا اعلان کیا کریں۔ اس طرح شروع میں الصلوٰۃ جامعۃپکار دیا جاتا۔ حضور اقدس ﷺ کے صحابی حضرت عبد اللہ بن زید ؓنے ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک شخص ہے جس نے دوسبز چادریں اوڑھی ہوئی ہیں اور ہاتھ میں ناقوس پکڑا ہوا ہے۔ حضرت عبداللہ نے اس سے کہا اے بندۂ خدا کیا یہ ناقوس فروخت کروگے۔ اس نے پوچھا تم اسے لیکر کیاکرو گے؟آپ نے کہا ہم اسکے ذریعے لوگوں کو دعوتِ نماز دیا کرینگے۔ اس نے کہا کیا میں تمہیں اس  سے بہتر چیز نہ بتائوں، انہوں نے کہا بڑی نوازش ہوگی۔ اس نے کہا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ کلمات سنائواور عرض کرو کہ لوگوں کو اس طرح نماز کی دعوت دیا کریں اور کلمات اذانِ حضرت عبداللہ کو سنائے۔ حضرت عبداللہ بیدار ہوگئے، اور اسی وقت حضور کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوگئے۔ اور اپنا خواب سنایا۔ آپ نے خواب سماعت  فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا۔ یہ سچا خواب ہے، انشاء اللہ۔ صبح صادق ہوئی تو حضور اکرم ﷺنے حضرت عبد اللہ سے فرمایا کہ بلال کو ساتھ لے جائو اور انہیں اذان کے کلمات سناتے جائو، وہ انہیں بلند آواز سے کہتے جائینگے۔ حضرت عمرابن خطابؓ نے بھی رات ایسا ہی خواب دیکھا تھا۔ جب مدینہ منورہ کی فضائوں میں اذانِ بلالی بلند ہوئی تو حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔’’اس ذات کی قسم جس نے آپکو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں نے بھی اسی طرح کاخواب دیکھا ہے۔‘‘


Shortclip - انسان کیا ہے؟

Shortclip - کیا ہم اللہ تعالیٰ سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں؟

اتوار، 3 اکتوبر، 2021

Shortclip کیا ہم اللہ تعالیٰ کے قُرب کو پاسکتے ہے؟

ShortClip-ہم بد حال کیوں ہیں؟

حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا اہتمامِ صلوٰۃ

 

حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا اہتمامِ صلوٰۃ

حضرت اسود رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر تھے۔ ہم نے نماز کی اہمیت، عظمت اور پابندی کا تذکرہ شروع کیا تو حضرت عائشہ نے ارشاد فرمایا: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض الوصال شروع ہوا تو نماز کا وقت آگیا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہوکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔آپ کی ایک اہلیہ محترمہ نے عرض کیا، ابوبکر تو بہت رفیق القلب ہیں۔ بہت جلد رو پڑتے ہیں۔ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھاپائیں گے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے وہی بات دہرائی۔ اہلیہ نے اپنی بات دربارہ عرض کی۔ حضور نے تیسری مرتبہ ارشاد فرمایا۔ تم زنانِ یوسف کی طرح ہو۔ ابوبکر سے کہوکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھانے چلے گئے۔ پھر آنجناب نے اپنی بیماری میں کچھ افاقہ محسوس فرمایا (تو آپ نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے) نقاہت کی وجہ سے آپ دو افراد کے کاندھوں پر دست مبارک رکھے ہوئے مسجد گئے گویا کہ میں اب بھی دیکھ رہی ہوں کہ آپ دونوں قدم مبارک زمین پر گھسٹتے ہوئے جا رہے ہیں۔ (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوتشریف لاتے ہوئے دیکھ کر)  حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے انہیں اشارہ سے فرمایا کہ وہیں آپ جگہ پر رہیں، پھر حضور جا کر ان کے پہلو میں تشریف فرما ہوگئے۔ (بخاری)

٭حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی اتنی زیادہ عبادت کی کہ آپ کی جلد مبارک (کثرت ریاضت سے خشک ہوکر) پھٹ گئی۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اگلے پچھلے گناہ سے محفوظ نہیں فرما دیا ہے۔آپ نے فرمایا: ہاں لیکن کیا میں (اپنے پاک پروردگار کا) شکرگزار بندہ نہ بنوں۔(ابن النجائ)

٭حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کی خدمت عالیہ میں عرض کیا گیا کہ کچھ لوگ ایک رات میں سارا قرآن ایک مرتبہ یا دو مرتبہ پڑھ لیتے ہیں ۔آپ نے فرمایا: ان لوگوں کا پڑھنا نہ پڑھنا برابر ہے۔ میں حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساری رات کھڑی رہتی تھی۔آپ سورۃ بقرہ ،سورۃ آل عمران اور سورۃ نساء پڑھا کرتے تھے۔ خوف والی آیت آتی تو دعا مانگتے اور اللہ کی پناہ چاہتے تھے، بشارت والی آیت آتی تو دعامانگتے اوراس کا شوق ظاہر کرتے۔ (احمد)

٭حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ عارضہ لاحق ہوگیا۔جب صبح ہوئی توکسی نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کی صحت مبارکہ پر عارضہ کا اثر بالکل واضح ہے۔آپ نے فرمایا تم جو اثر مجھ پر دیکھ رہے ہو اس کے باوجود میں نے رات کو (نفل میں) سات طویل سورتیں پڑھی ہیں۔ (ابویعلی)

Dars-e-Quran Urdu. Dars No 1855 ( Surah Al-Hadid Ayat 13 ) درس قرآن سُو...

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۱)

  سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۱) ارشاد باری تعالی ہے :”اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی مردوں کے لیے ان...