اللہ تعالی کی طرف سے بہت ہی آسان فلاح کا راستہ سنیے اور عمل کیجئے تاکہ ہم سب فلاح پا لیں . ہر قسم کی تفرقہ بازی اور مسلکی اختلافات سے بالاتر آسان اور سلیس زبان میں
بدھ، 3 جون، 2020
منگل، 2 جون، 2020
Islam Aur Islah-e-Ebadat
اسلام اور اصلاحِ عبادات
مکہء مکرّمہ کی آبادی حضرت ابراہیم ؑاور حضرت اسمعٰیل ؑکے مبارک وجود کی وجہ سے شروع ہوئی۔ اللہ کے یہ پیغمبر دعوت توحید کے علمبردار تھے ۔ حضرت اسمعٰیل ؑکی اولاد واحناف بھی ایک مدّت تک دین حنیف پر کاربند رہے لیکن ایک شخص عمروبن لحی الخزاعی سے عرب میں بت پرستی کا آغاز ہوگیا۔ عمروبن لحی خانہ کعبہ کا متولی تھا،اسے سنگین نوعیت کا کوئی مرض لاحق ہوگیا ۔ کسی نے اسے بتایا کہ ملک شام میں بلقاء کے مقام پر گرم پانی کا ایک چشمہ ہے۔ اگر تم اسکے پانی سے غسل کروگے،تو صحت یا ب ہوجائو گے۔ وہ بلقاء پہنچا ،غسل کیا اور صحت یاب ہوگیا۔ اس نے وہاں کے باسیوں کودیکھا کہ وہ بتوں کی پر ستش کرتے ہیں ۔ اس نے استفسار کیا کہ تم یہ کیا کررہے ہو،انہوں نے بتایا کہ ہم انکے ذریعہ سے بارش طلب کرتے ہیں اور انکے ذریعے دشمن پر فتح حاصل کرتے ہیں۔اس نے کہا مجھے بھی ان بتوں میں سے چند ایک بت دے دو، انہوں نے اس کو چند بت دے دیے وہ ان کو لے کر مکہ واپس آگیا ،اور انھیں خانہ کعبہ کے اردگرد نصب کردیا، بقول ابن خلدون یہیں سے عرب میں بت پرستی کا آغاز ہوا، عمرونے بت پرستی کے علاوہ بھی بہت سی نئی رسومات کاآغاز کیا اور عربوں نے انھیں مذہبی شعار سمجھ کر اختیار کرنا شروع کردیا۔ بت پرستی کی یہ وباء اس شدت سے پھیلی کہ ہر قبیلے نے اپنا الگ الگ خدا بنا لیا ۔ یہاں تک کہ کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب کردیے گئے، اور اسکی وجہ یہ تھی عرب کے سارے قبائل کعبہ کا حج کرنے کیلئے آیا کرتے تھے اس لئے قریش نے ان تمام قبائل کے معبودوں کے بت یہاں یکجا کردیے تھے تاکہ کسی قبیلہ کا آدمی بھی حج کرنے کی نیت سے مکہ میں آئے تو اپنے معبود کے بت کو یہاں دیکھ کر اسکی عقیدت میں اور اضافہ ہواور اسے قریش کی سیادت کو تسلیم کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ ہو، کفّا رومشرکین کے ساتھ عرب میں یہودیوں اور نصاریٰ کی بھی ایک تعداد موجود تھی ،لیکن یہ مذاہب بھی افراط وتقریظ کا شکار ہوچکے تھے۔یہود اپنی بد عملی کے سبب بدنام ہوچکے تھے، جادو،ٹونہ اور عملیات کے توہمات میں گرفتار ہوچکے تھے۔ان میں خدا پرستی ایثار اور روحانی خلوص نام کو بھی نہیں تھا۔صرف ہفتہ کے دن کی تعظیم کو بڑا مذہبی شعار گردانتے تھے۔عیسائیوں نے توحید خالص کو چھوڑ کر حضرت عیسٰی ،حضرت مریم اور مسیحی اکابرین کے مجسمے اور تصویر یں پوجناشروع کردی تھیں ،اور رہبانیت کو اپنا مذہبی شعار بنالیا تھا۔’’یہود کا فسق دین میں کمی اور پستی کرنااور نصاریٰ کافسق دین میں زیادتی اور غلوتھا‘‘۔ ایسے میں اسلا م توحید ،اعتدال اور توازن کا پیغام لے کرآیا۔
پیر، 1 جون، 2020
Maaf Karnay Ki Adaat
معاف کرنے کی عادت
اللہ تعالیٰ کا ارشادہے : ’’اورجب وہ غضب ناک ہوں تو معاف کردیتے ہیں ، اوربرائی کا بدلہ اس کی مثل برائی ہے ، پھر جس نے معاف کردیا اوراصلاح کرلی تو اس کا اجر اللہ (کے ذمہء کرم )پر ہے‘‘۔(الشوریٰ:۴۰)’’اورجس نے صبر کیا اور معاف کردیا تو یقینا یہ ضرور ہمت کے کاموں میں سے ہے‘‘۔(الشوریٰ : ۴۳)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بے حیائی کی باتیں طبعاً کرتے تھے نہ تکلفاً اورنہ بازار میں بلند آواز سے باتیں کرتے تھے ، اوربرائی کا جواب برائی سے نہیں دیتے تھے لیکن معاف کردیتے تھے اور درگذر فرماتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو زیادتی بھی کی گئی میں نے کبھی آپ کو اس زیادتی کا بدلہ لیتے ہوئے نہیں دیکھا بہ شرطیکہ اللہ کی حدود نہ پامال کی جائیں اورجب اللہ کی حد پامال کی جاتی تو آپ اس پر سب سے زیادہ غضب فرماتے، اورآپ کو جب بھی دوچیزوں کا اختیار دیاگیا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بہ شرطیکہ وہ گناہ نہ ہو۔(جامع الترمذی)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب بھی حضور الصلوٰۃ والسلام کو دوچیزوں کا اختیار دیا گیا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بہ شرطیکہ وہ گناہ نہ ہو، اگر وہ گناہ ہوتی تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کا انتقام نہیں لیا، ہاں اگر اللہ کی حد پامال کی جاتیں تو آپ ان کا انتقام لیتے تھے۔ (سنن ابودائود)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا، میں نے ابتداً آپ کا ہاتھ پکڑلیا ، اورمیں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم مجھے فضیلت والے اعمال بتائیے، آپ نے فرمایا : اے عقبہ ، جوتم سے تعلق توڑے اس سے تعلق جوڑو ، جو تم کو محروم کرے ، اس کو عطاکرو، اورجو تم پر ظلم کرے اس سے اعراض کرو۔(مسند احمدبن حنبل)
میمون بن مہران روایت کرتے ہیں کہ ایک دن ان کی باندی ایک پیالہ لے کر آئی جس میں گرم گرم سالن تھا ، ان کے پاس اس وقت مہمان بیٹھے ہوئے تھے، وہ باندی لڑکھڑائی اوران پر وہ شوربا گرگیا، میمون نے اس باندی کو مارنے کا ارادہ کیا، تو باندی نے کہا اے میرے آقا، اللہ تعالیٰ کے اس قول پر عمل کیجئے ، والکاظمین الغیظ ، میمون نے کہا:میں نے اس پر عمل کرلیا (غصہ ضبط کرلیا)اس نے کہا :اس کے بعد کی آیت پر عمل کیجئے والعافین عن الناس میمون نے کہا :میں نے تمہیں معاف کردیا، باندی نے اس پر اس حصہ کی تلاوت کی: واللّٰہ یحب المحسنین میمون نے کہا : میں تمہارے ساتھ نیک سلوک کرتا ہوں اورتم کو آزاد کردیتا ہوں۔(الجامع الاحکام :تبیان القرآن)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
سورۃ العصر
سورۃ العصر ترجمہ”:زمانہ کی قسم ۔ بےشک ہر انسان ضرور نقصان میں ہے ۔ سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے اور انہوں نے ایک...
-
ذکر الٰہی کی فضیلت و فوائد (۲) حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’نبی رحمتﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہترین عمل ک...
-
سیر ت النبی ﷺ سچائی اور عہد وفا حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں ہمیشہ صدق اور ایفائے عہد کا درس دیا چاہے وہ کسی فرد واحد کے ساتھ ہو ...
-
ولادتِ سرور کونین ﷺ (۱) عید میلا دالنبی ؐ اسلامی تاریخ کا ایک مبارک اور نورانی دن ہے جو غلامانِ مصطفی ﷺ کے دلوں میں عشق و محبت ، عقیدت و...