اللہ تعالی کی طرف سے بہت ہی آسان فلاح کا راستہ سنیے اور عمل کیجئے تاکہ ہم سب فلاح پا لیں . ہر قسم کی تفرقہ بازی اور مسلکی اختلافات سے بالاتر آسان اور سلیس زبان میں
جمعرات، 11 ستمبر، 2025
بدھ، 10 ستمبر، 2025
اللہ تعالیٰ کا خوف
اللہ تعالیٰ کا خوف
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب میت کو چار پائی پر رکھ دیا جائے اور اسے مرد اپنے کندھوں پر اٹھا لیں اگر وہ نیک ہو تو کہتاہے کہ مجھے جلدی آ گے لے چلو اور اگر بد ہو تو کہتا ہے ہا ئے افسوس مجھے کہاں لے جا رہے ہو ۔ انسان کے سوا اس کی آواز کو ہر چیز سنتی ہے اور اگر اس کی آواز کو انسان سن لے تو بے ہوش ہو جائے ۔ ( بخاری )
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سات شخصوں پر اللہ عرش کا سایہ فرمائے جس دن اس کے سایہ نہ ہو گا ان میں سے ایک شخص وہ ہو گا جس نے اللہ تعالی کو یاد کیا اور اللہ کے خوف سے اس کی آنکھوں سے آنسو گر پڑے ۔ ( بخاری )
حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے رونے والا شخص جہنم میں اس وقت تک داخل نہیں ہو گا جب تک دودھ تھن میں واپس نہیں چلا جاتا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں انسان کے جسم پر لگنے والا غبار اور جہنم کا دھواں اکھٹے نہیں ہو سکتے ۔ ( ترمذی )
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم سے جو لوگ پہلے گزر گئے یعنی بنی اسرائیل میں ایک شخص جھینہ تھا ۔ جو اپنے عمل کے متعلق برا گمان کرتا تھا ۔ وہ نباش یعنی کفن چور تھا اس نے گھر والوں سے کہا جب میں مر جائوں مجھے پکڑو گرمی کے دن میں سمندر میں بہا دینا ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعضا کو جمع کیا پھر فرمایا جو تم نے کیا تمہیں اس کے لیے کس نے کہا ۔ اس نے کہا میں نے یہ سب کچھ صرف تیرے خوف کے سبب کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو بخش دیا ۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر ؓ سے مروی ہے کہ یہ شخص بہت آخر میں جنت میں داخل ہوگا لہذا یہ آخری شخص ہو گا جسے جہنم سے نکالا جائے گا۔ ( بخاری )
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کسی قبر کے پاس آتے تھے تو بہت زیادہ رویا کرتے تھے یہاں تک کہ ان کی داڑھی تر ہو جاتی تھی ۔ ان سے کہا گیا جب جنت اور جہنم کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو آپ نہیں روتے ؟ لیکن جب قبر کی وجہ سے روپڑتے ہیں ؟نہوں نے فرمایا نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا قبر آخرت کی پہلی منزل ہے جو شخص اس سے نجات پا گیا اس کے بعد والے مراحل اس سے زیادہ آسان ہوں گے ۔ جو شخص اس سے نجات نہ پا سکا اس کے بعد والے مراحل اس سے زیادہ مشکل ہوں گے ۔
حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے جو بھی منظر دیکھے ہیں ان میں سے سب سے زیادہ خوفناک قبر ہے ۔ ( ابن ماجہ )
منگل، 9 ستمبر، 2025
ولادتِ سرور کونین ﷺ (۲)
ولادتِ سرور کونین ﷺ (۲)
حضور نبی کریم ﷺ کا خاندان نسب و شرافت میں تمام دنیا کے خاندانوں سے افضل و اعلی ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کفار مکہ بھی اس کا انکار نہیں کرتے تھے۔ حضرت ابو سفیان نے جب وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے بادشاہ روم کے سامنے اس بات کا اقرار کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ’’عالی خاندان ‘‘ ہیں۔ ( بخاری شریف)
اس وقت وہ آپ کے دشمن تھے اور چاہتے تھے کہ اگر ذرہ برابر بھی کوئی ایسی بات ملے جس سے آپ ؐکی ذات مبارکہ پر کوئی عیب لگا کر بادشاہ روم کی نظروں سے آپؐ کے وقار کو گرا دے۔مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ’’کنانہ ‘‘ کو برگزیدہ بنایا اور ’’کنانہ ‘‘ میں سے ’’قریش‘‘ کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو منتخب فرمایا۔ یعنی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان اس قدر بلند و بالا ہے کہ کوئی بھی حسب و نسب والا آپ کی مثل نہیں۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے وقت بے شمار معجزات رونما ہوئے۔پیدائش کے وقت آپؐ کی ناف مبارک کٹی ہوئی ، ختنے بھی ہوئے ہوئے اور آپ ؐ خوشبو میں بسے ہوئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس رات سبھی کو بیٹے عطا کیے۔
حضرت عبد المطلب بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی تو اس وقت میں خانہ کعبہ میں تھا میں نے دیکھا کہ کعبہ معظمہ میں رکھے بت گِر پڑے۔ (السیرۃ النبویہ )۔
تیری آمد تھی کہ بیت اللہ نیچے کو جھکا
تیری ہیبت تھی کہ ہر بت تھر تھرا کر گرگیا
ہانی مخزومی بیان کرتے ہیں کہ جس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی کسریٰ ایران کے محل لرز اٹھے اور اس کے چودہ کنگرے ٹوٹ گئے اور فارس کی آگ سرد ہو گئی جو ایک ہزار سال سے جل رہی تھی اور کبھی سرد نہیں ہوئی تھی۔ (دلائل النبوہ للبہیقی )۔
آپ ؐ کے والد ماجد آپ کی پیدائش سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ آپؐ کے دادا کو بلایا گیا جو خانہ کعبہ کے طواف میں مشغول تھے۔ جب آپ ؐ کے دادا کو آپ کی ولادت کی خبر دی گئی تو وہ خوشی سے جھوم اٹھے۔ آپ کے دادا خوشی خوشی گھرآئے آپ ؐ کو سینے سے لگایا اور پھر کعبہ میں لے جا کر خیر و برکت کی دعا کی اور ’’محمد ‘‘ نام رکھا۔(زرقانی )۔
جن کے آنے سے روشن ہوئے دو جہاں
ان کے قدموں کی برکت پہ لاکھوں سلام
امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت یقینا ہم پر اللہ تعالی کی سب سے بڑی نعمت ہے ۔
ولادتِ سرور کونین ﷺ (۱)
ولادتِ سرور کونین ﷺ (۱)
عید میلا دالنبی ؐ اسلامی تاریخ کا ایک مبارک اور نورانی دن ہے جو غلامانِ مصطفی ﷺ کے دلوں میں عشق و محبت ، عقیدت و احترام اور خوشی و مسرت کی لہر دوڑا دیتا ہے۔ یہ وہ عظیم اور برکت والا دن ہے جس دن سرور کائنات ، جانان ِ کائنات ، وجہہ تخلیق کائنات حضور نبی کریم خاتم النبین ؐ اس دنیا میں تشریف لائے اور شر ک و ظلمت میں ڈوبی ہو ئی انسانیت کو ہدایت کے نور سے منور فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایمان والوں پر احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں اپنے پیارے محبوب کی امت میں پیدا فرمایا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مومنوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا ‘‘۔ ( سورۃ آل عمران )۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جب اللہ تعالی کا گھر تعمیر کیا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی کہ اے اللہ نبی آخرالزمانﷺ کو ہماری نسل میں ظاہر فرما۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اے ہمارے رب اور ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پرتیری آیتوں کی تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب پاکیزہ فرما دے بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہے ‘‘۔( سورۃ البقرۃ )۔
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کے ہاں لوح محفوظ میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم علیہ السلام ابھی مٹی میں تھے ،میں تم کو اس کی تاویل بتاتا ہوں۔ میں اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں جو انہوں نے اپنی قوم کو دی اور میں اپنی والدہ کا خواب ہوں جو انہوں نے دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس کے لیے شام کے محلات روشن ہو گئے۔ ( مسند احمد )۔
جب پورے عالم میں ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی تھی ، آداب معاشرت بالکل ختم ہو چکے تھے ، غلاموں اور عورتوں کو بالکل بھی عزت کے قابل نہیں سمجھا جاتا تھا اور ہر طرف ظلم کا بازار گرم تھا تب اللہ تعالیٰ نے اپنا کرم فرمایا اور اپنے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر ساری تاریکیوں کو روشنی میں بدل دیا۔ عورتوں اور غلاموں کو ان کا مقام مل گیا اور غریبوں اور یتیموں کو سہارا مل گیا ہر سْو نور ہی نور چھا گیا سب کے چہرے پر رونق بکھر آئی۔
ربیع الاول کو مکہ مکرمہ کی سر زمین پر دنیا بھر کے قبیلوں اور خاندانوں میں سب سے بہتر خاندان اور قبیلے میں جنا ب بی بی آمنہ رضی اللہ عنہاکے گھرصبح صادق آپ ؐ کی جلوہ گری ہو ئی۔
جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
عید الاضحی اور قربانی(۳)
عید الاضحی اور قربانی(۳) اسلام میں قربانی کے لیے تین ایام 10 ، 11 ،12 ذی الحجہ کے دن مختص کیے گئے ہیں۔ ان تین ایام کے علاوہ کی جانے والی ق...
-
دنیا کی زندگی ،ایک امتحان (۱) اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک عظیم مقصد کے تحت پیدا فرمایا ہے۔دنیا کی یہ زندگی ایک کھیل تماشا نہیں بلکہ ایک سن...


