اللہ تعالیٰ کا خوف
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب میت کو چار پائی پر رکھ دیا جائے اور اسے مرد اپنے کندھوں پر اٹھا لیں اگر وہ نیک ہو تو کہتاہے کہ مجھے جلدی آ گے لے چلو اور اگر بد ہو تو کہتا ہے ہا ئے افسوس مجھے کہاں لے جا رہے ہو ۔ انسان کے سوا اس کی آواز کو ہر چیز سنتی ہے اور اگر اس کی آواز کو انسان سن لے تو بے ہوش ہو جائے ۔ ( بخاری )
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سات شخصوں پر اللہ عرش کا سایہ فرمائے جس دن اس کے سایہ نہ ہو گا ان میں سے ایک شخص وہ ہو گا جس نے اللہ تعالی کو یاد کیا اور اللہ کے خوف سے اس کی آنکھوں سے آنسو گر پڑے ۔ ( بخاری )
حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے رونے والا شخص جہنم میں اس وقت تک داخل نہیں ہو گا جب تک دودھ تھن میں واپس نہیں چلا جاتا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں انسان کے جسم پر لگنے والا غبار اور جہنم کا دھواں اکھٹے نہیں ہو سکتے ۔ ( ترمذی )
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم سے جو لوگ پہلے گزر گئے یعنی بنی اسرائیل میں ایک شخص جھینہ تھا ۔ جو اپنے عمل کے متعلق برا گمان کرتا تھا ۔ وہ نباش یعنی کفن چور تھا اس نے گھر والوں سے کہا جب میں مر جائوں مجھے پکڑو گرمی کے دن میں سمندر میں بہا دینا ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعضا کو جمع کیا پھر فرمایا جو تم نے کیا تمہیں اس کے لیے کس نے کہا ۔ اس نے کہا میں نے یہ سب کچھ صرف تیرے خوف کے سبب کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو بخش دیا ۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر ؓ سے مروی ہے کہ یہ شخص بہت آخر میں جنت میں داخل ہوگا لہذا یہ آخری شخص ہو گا جسے جہنم سے نکالا جائے گا۔ ( بخاری )
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کسی قبر کے پاس آتے تھے تو بہت زیادہ رویا کرتے تھے یہاں تک کہ ان کی داڑھی تر ہو جاتی تھی ۔ ان سے کہا گیا جب جنت اور جہنم کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو آپ نہیں روتے ؟ لیکن جب قبر کی وجہ سے روپڑتے ہیں ؟نہوں نے فرمایا نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا قبر آخرت کی پہلی منزل ہے جو شخص اس سے نجات پا گیا اس کے بعد والے مراحل اس سے زیادہ آسان ہوں گے ۔ جو شخص اس سے نجات نہ پا سکا اس کے بعد والے مراحل اس سے زیادہ مشکل ہوں گے ۔
حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے جو بھی منظر دیکھے ہیں ان میں سے سب سے زیادہ خوفناک قبر ہے ۔ ( ابن ماجہ )

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں