غفلت کا علاج (۲)
عالم اور جاہل کبھی برابر نہیں ہو سکتے اور علم والوں کو اللہ تعالی فضیلت بخشتا ہے اور وہ غافل نہیں ہوتے اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ علم سیکھے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا ہے درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ ( سورۃ المجادلہ )
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی رحمت ﷺ نے فرمایا بیشک دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ ملعون ہے ۔ سوائے اللہ تعالی کے ذکر کے اور جو ذکر سے جڑی ہوئی چیزیں اور علم والے اور علم سیکھنے والے ۔( ترمذی )
دعا کا اہتمام بھی انسان کو غفلت کی تاریکی میں جانے سے بچاتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ اس طرح دعا فرمایا کرتے تھے : ”اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہو ں کمزوری سے ، سستی سے ، بخل سے ، بڑھاپے سے ، دل کی سختی سے ، غفلت سے ، ذلت و محتاجی سے ، اور تیر ی پناہ چاہتا ہوں فقر سے ، کفر و شرک سے ، نفاق سے ، شہرت سے ، شہرت کے شوق سے اور ریا کاری سے ، اور تیری پنا ہ مانگتا ہوں بہرے پن سے ، گونگے پن سے ، جنون سے ، جذام سے اور طرح طرح کی بری بیماریوں سے “۔ ( صحیح ابن حبان )۔
حضرت شیخ حارث بن اسد الحاسبی ؒ سے سوال کیا گیا کہ کوئی ایسی چیز بتائیں جو بیداری پر تقویت دے اور غفلت کو ترک کرنے پر امادہ کر دے ؟ آپ نے فرمایا اخلا ص نیت سے دعا کرنا ، ایسے لوگوں کی صحبت میں رہنا جو تمہارے ہم مزاج ہوں یعنی نیک ہوں اور ایسے لوگوں کو چھوڑ دینا جو تیرے ہم مزاج نہ ہوں ۔( آداب النفوس )۔
غفلتوں سے اپنی سانسوں کو روکے رکھنا سالکین کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے ۔ جب کسی پہ غفلت طاری ہو جائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ استغفار کرے اور اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے ۔ کیونکہ استغفار سے دل پاک ہوتے ہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے : (اے محبو ب ﷺ) آپ فرمادیجیے اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پہ ظلم کیا اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ اللہ تعالی سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہی بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے ۔ ( سورۃ الزمر )۔
مندرجہ بالا آیات اور احادیث مبارکہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ جب ذکر الہی ، تلاوت قرآن مجید ، نماز ، توبہ و استغفار ، نیک صحبت ، علم دین ، محاسبہ نفس ، آخرت کی یاد اور دعا انسان کی زندگی کا حصہ بن جائیں تو دل زندہ ، فکر پاکیزہ اور کردار مضبوط ہو جاتا ہے ۔ایسے انسان کے لیے دنیا عبادت گاہ بن جاتی ہے اور آخرت میں بھی اللہ تعالی کے فضل سے سرخرو ہو جائے گا ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں