غفلت کا علاج (۱)
انسان کی روحانی زندگی کا سب سے بڑا دشمن غفلت ہے ۔ انسان کی زندگی میں سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی یاد سے غافل ہو جائے ۔جب دل ذکر الہی سے خالی ہو جائے ، آنکھیں عبرت کے مناظر دیکھ کر بھی نہ جاگیں ، کان نصیحت سن کر بھی نہ سنبھلیں اور زندگی کا مقصد صرف دنیا کی آسائشیں بن جائیں تو یہی کیفیت غفلت کہلاتی ہے ۔ غفلت ایک خاموش بیماری ہے جو انسان کے ایمان ، کردار اور روحانی زندگی کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں بار بار انسان کو بیدار کیا ، کائنات کی نشانیوں میں غوروفکر کی دعوت دی اور آخرت کو یاد رکھنے کی تلقین فرمائی ۔ غفلت سے بچنے کے کئی اسباب ہیں۔
پہلا یہ کہ انسان غافلین اور غفلت والی جگہوں سے دور رہے ۔ارشاد باری تعالی ہے : ” تم اس سے منہ پھیر لو جو ہماری یاد سے پھرا اور اس نے نہ چاہی مگر دنیا کی زندگی “۔ ( سورۃ النجم )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے غفلت والی جگہوں سے دور رہنے اور اللہ تعالی کے گھر کو آباد کرنے کی تلقین فرمائی۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی کی سب سے پسندیدہ جگہیں مساجد ہیں اور سب سے ناپسندیدہ مقامات بازار ہیں ۔ ( مسلم )۔
مساجد کی تعظیم و توقیر کرنی چاہیے کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ عزت اور شرف والے مقامات ہیں۔ مساجد میں اللہ تعالی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جب کوئی غافل شخص مسجد میں داخل ہوتا ہے تب ہی ذکر کی توفیق ملتی ہے ۔ جبکہ بازاروں میں لوگ دنیا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے دلوں میں غفلت پیدا ہوتی ہے ۔
انسان کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ آخر اس نے ایک دن دنیا سے چلے جانا ہے ۔ جیسا کہ سورۃ عمران میں اللہ تعالی فرماتا ہے ”ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے “۔ اس لیے انسان کو اپنی آخرت کی تیاری کرنی چاہیے اور دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر اپنی آخرت کو خراب نہیں کرنا چاہیے ۔
تلاوت قرآن مجید کرنے سے دل کی سیاہی اترتی ہے اور اس کی آیات میں غورو فکر کرنے سے انسان غفلت سے بچ جاتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”اے لوگو تمہارے پاس تہمارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے ۔ ( سورۃ یونس )۔ ہمیشہ اللہ تعالی کا ذکر کرتے رہنا چاہیے ذاکر کا دل کبھی بھی سخت نہیں ہوتا ۔ ارشاد باری تعالی ہے : اور اپنے رب کو دل میں یاد کرو زاری اور ڈر سے اور بے آواز نکلے زبان سے صبح و شام اور غافلوں میں نہ ہونا“۔ ( سور ة الاعراف )

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں