فضائل و مناقب امام زین العابدین(۱)
کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے کردار کی روشنی صدیوں کے فاصلے بھی مدھم نہیں کر سکتے ۔وہ اپنے کردار ، عبادت ، صبراور اخلاق کی بدولت زمانوں کے لیے مینار ہ نور بن جاتی ہیں ۔ حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ انہی عظیم ہستیوں میں سے ایک ہیں۔آپ نے کربلا کے سانحے کے بعد امت ِ مسلمہ کو صبر ، استقامت اور اللہ تعالی کی بندگی کا درس دیا ۔ سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ، سیدۃ النساء العالمین فاطمۃ الزہررضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پوتے تھے ۔ آپ ؓ خانوادہء نبوتﷺ کے وہ درخشاں گوہر ہیں جن کی پیشانی عبادت کے نور سے جگماتی اور جن کا دل محبت الہی سے معمور رہتا تھا ۔ کثرت سجود ، زہد تقوی ، علم و معرفت اور خدمت خلق کی وجہ سے آپ زین العابدین یعنی عبادت گزاروں کی زینت اور سجاد یعنی بہت زیادہ سجدے کرنے والے القابات سے مشہور ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی حیات مبارکہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ آزمائشوں کے باوجود ان کے عزم کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا جس کا تعلق اپنے رب کے ساتھ مضبوط ہو ۔
آپ رضی اللہ عنہ کے خوف خدا کا عالم یہ تھا کہ ایک مرتبہ حج کے موقع پر احرام باندھا تو تلبیہ نہیں پڑھی ۔ لوگوں نے عرض کی حضور آپ تلبیہ یعنی لبیک اللھم لبیک نہیں پڑھ رہے ؟آپ ؓ آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں لبیک کہوں اور اللہ تعالی کی طرف سے لا لبیک کی آواز نہ آجائے ۔ لوگوں نے کہا حضور لبیک کہے بغیر آپ کا احرام کیسے ہو گا ۔ یہ سن کر آپ ؓ نے بلند آواز میں تلبیہ پڑھی ۔
’’لبیک اللھم لبیک لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک‘‘
آپ رضی اللہ عنہ خوف خدا کی وجہ سے لرز کر اونٹ کی پشت سے نیچے گر پڑے اور بے ہوش ہو گئے ۔ جب ہوش میں آتے تو لبیک پڑھتے اور پھر بے ہوش جاتے۔اسی حالت میں آپ رضی اللہ عنہ نے حج ادا فرمایا ۔ (اولیائے رجال الحدیث )۔
آپ رضی اللہ عنہ کے عفو درگزر کا یہ عالم تھا کہ ایک دن وضو کراتے ہوئے کنیز کے ہاتھ سے برتن چھوٹ گیا اور آپ کے چہرہ سے لگا جس کی وجہ سے آپ زخمی ہو گئے ۔ آپ نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو اس نے عفودرگزر کی فضیلت کے متعلق قرآن مجید کی ایک آیت پڑھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سن کر اس کو معاف فرما دیا اور فرمایا جا تو اللہ تعالی کی رضا کے لیے آزاد ہے ۔ (تاریخ ابن عساکر )

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں