سیدہ زینب بنت علی ؓ(۳)
سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے یزید کے دربار میں اہل بیت اطہار کا مقام و مرتبہ بیان کیا ۔ اے یزید یاد رکھ کہ اللہ تعالی اہل بیت کا تجھ سے انتقام لے کر ان مظلوموں کا حق انہیں دلائے گا ۔اور انہیں امن و سکون کی نعمت سے مالا مال کر دے گا ۔ کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے : جو لوگ اللہ تعالی کی راہ میں مارے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اور انہیں رزق بھی دیا جاتا ہے ۔
افسوس تو اس بات پر ہے کہ شیطان کے ہمنوا اور بد نام لوگوں نے رحمان کے سپاہیوں اور پاکباز لوگوں کو تہہ تیغ کر ڈالا ہے اور ابھی تک اس شیطانی ٹولے کے ہاتھوں سے ہمارے پاک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں ۔ ان کے ناپاک دہن ہمارا گوشت چبانے میں مصروف ہیں اور صحرا کے بھیڑیے ان پاکباز شہیدوں کی مظلوم لاشوں کے ارد گرد گھوم رہے ہیں اور جنگل کے نجس درندے ان پاکیزہ جسموں کی بے حرمتی کر رہے ہیں ۔
اے یزید تو جتنا چاہے مکر و فریب کر لے اور بھر پور کوشش کر کے دیکھ لے مگر تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ تو نہ تو ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹا سکتا ہے اور نہ ہی وحی الہی کے پاکیزہ آثار محو کر سکتا ہے۔ تو یہ خیال اپنے دل سے نکال دے کہ ظاہرسازی کے ذریعے ہماری شان و شوکت کو پالے گا ۔ تو نے جس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کا بد نما داغ اپنے دامن سے نہیں دھو پائے گا ۔ تیرا نظریہ نہایت کمزور اور گھٹیا ہے ۔ تیری حکومت میں گنتی کے چند دن باقی ہیں ۔ تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑ جائیں گے ۔تیرے پاس اس دن کی حسرت و پریشانی کے سوا کچھ بھی نہیں بچے گا ۔ جب منادی ندا کر ے گا کہ ظلم وستم گر لوگوں کے لیے خدا کی لعنت ہے ۔
سیدزینب سلام اللہ علیہا کے اس خطبے کے بعد یزید کے دربار کا پورا نقشہ بدل گیا ہر طرف خاموشی چھا گئی ۔
علی کی جاہ و جلالت نمود کرتی ہے
زبان پہ جب کبھی زینب کا نام آتا ہے
سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے پیغام کربلا کو زندہ رکھا ۔ آپ ؓ کی استقامت ، خطبات اور جد وجہد کی بدولت کر بلا کی حقیقت واضح انداز میں امت تک پہنچی ۔ آپ ؓ نے شہدا کے خون کی حرمت کا دفاع کیا اور دنیا کو بتایا کہ حق کبھی مٹ نہیں سکتا خواہ اس کے علمدار اپنی جانیں ہی کیوں نہ قربان کر دیں ۔ اللہ تعالی ہمیں سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے پاکیزہ کردار سے سبق حاصل کرنے اور ان کی سیرت کے روشن پہلوؤں کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔
افسوس تو اس بات پر ہے کہ شیطان کے ہمنوا اور بد نام لوگوں نے رحمان کے سپاہیوں اور پاکباز لوگوں کو تہہ تیغ کر ڈالا ہے اور ابھی تک اس شیطانی ٹولے کے ہاتھوں سے ہمارے پاک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں ۔ ان کے ناپاک دہن ہمارا گوشت چبانے میں مصروف ہیں اور صحرا کے بھیڑیے ان پاکباز شہیدوں کی مظلوم لاشوں کے ارد گرد گھوم رہے ہیں اور جنگل کے نجس درندے ان پاکیزہ جسموں کی بے حرمتی کر رہے ہیں ۔
اے یزید تو جتنا چاہے مکر و فریب کر لے اور بھر پور کوشش کر کے دیکھ لے مگر تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ تو نہ تو ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹا سکتا ہے اور نہ ہی وحی الہی کے پاکیزہ آثار محو کر سکتا ہے۔ تو یہ خیال اپنے دل سے نکال دے کہ ظاہرسازی کے ذریعے ہماری شان و شوکت کو پالے گا ۔ تو نے جس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کا بد نما داغ اپنے دامن سے نہیں دھو پائے گا ۔ تیرا نظریہ نہایت کمزور اور گھٹیا ہے ۔ تیری حکومت میں گنتی کے چند دن باقی ہیں ۔ تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑ جائیں گے ۔تیرے پاس اس دن کی حسرت و پریشانی کے سوا کچھ بھی نہیں بچے گا ۔ جب منادی ندا کر ے گا کہ ظلم وستم گر لوگوں کے لیے خدا کی لعنت ہے ۔
سیدزینب سلام اللہ علیہا کے اس خطبے کے بعد یزید کے دربار کا پورا نقشہ بدل گیا ہر طرف خاموشی چھا گئی ۔
علی کی جاہ و جلالت نمود کرتی ہے
زبان پہ جب کبھی زینب کا نام آتا ہے
سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے پیغام کربلا کو زندہ رکھا ۔ آپ ؓ کی استقامت ، خطبات اور جد وجہد کی بدولت کر بلا کی حقیقت واضح انداز میں امت تک پہنچی ۔ آپ ؓ نے شہدا کے خون کی حرمت کا دفاع کیا اور دنیا کو بتایا کہ حق کبھی مٹ نہیں سکتا خواہ اس کے علمدار اپنی جانیں ہی کیوں نہ قربان کر دیں ۔ اللہ تعالی ہمیں سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے پاکیزہ کردار سے سبق حاصل کرنے اور ان کی سیرت کے روشن پہلوؤں کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں