منگل، 3 فروری، 2026

ماہ شعبان اور شب برأ ت(۲)

 

ماہ شعبان اور شب برأ ت(۲)

حضرت انسؓ فرماتے ہیں نبی کریمﷺ نے فرمایا ماہ رمضان کے لیے تم اپنے بدنوں کو شعبان کے روزوں سے پاک کر لیا کرو کیونکہ جو شعبان کے تین روزے رکھتا ہے اور پھر افطاری سے پہلے مجھ پر کثرت سے درود شریف پڑھتا ہے تو اللہ تعالی اس کے سابقہ گناہ بخش دیتا ہے اور اس کی روزی میں برکت فرماتا ہے۔ اورمجھے جبرائیل علیہ السلام نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالی اس ماہ مقدس میں رحمت کے تین سو دروازے کھول دیتا ہے۔حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شعبان میں ایک روزہ رکھتا ہے اللہ تعالی اس کو حضرت ایوب اور حضرت دائود علیہ السلام کا سا ثواب عطا فرماتا ہے اور اگر اس نے پورا مہینہ روزے رکھے تو اللہ تعالی موت کی سختیوں کوآسان فرما دے گا اور قبر کی تاریکی ، منکر نکیر کی دہشت اس سے دور رکھے گا اور قیامت کے دن اس کے عیبوں پر بھی پردہ ڈالے گا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے قسم ہے اس روشن کتاب کی۔ بے شک ہم نے اسے اتارا برکت والی رات میں ہم ڈر سنانے والے ہیں۔ اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام ہمارے حکم سے بے شک ہم بھیجنے والے ہیں۔ ( سورۃ الدخان )
مفسرین کے مطابق اسے آیت مبارکہ میں لیلۃ مبار کہ سے مراد شب برأت کی رات ہے۔ اس رات اللہ تعالی اپنی رحمت کا نزول فرماتا ہے۔ماہ شعبان کی پندرھویں رات کو اللہ تعالی اپنی شان کریمی کے طفیل رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور گناہ گاروں کی بخشش فرماتا ہے۔سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نصف شعبا ن کی شب آسمان دنیا پر تشریف فرماتا ہے اور اس رات مشرک اور بغض رکھنے والوں کے علاوہ سب کو بخشش دیا جاتا ہے۔ ( بہیقی ) 
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے نبی کریمﷺ کو اپنے پاس نہ پایا تو میں آپؐ کو دیکھنے نکلی آپؐ جنت ا لبقیع میں تشریف فرما تھے۔آپؐ نے فرمایا، اے عائشہ، کیا تمھیں یہ خیال آیا کہ اللہ اور اس کا رسولؐ تمھارا خیال نہیں رکھیں گے۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کی، یا رسول اللہﷺ، مجھے یہ خیال آیا کہ شاید آپؐ کسی دوسری اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا، بلا شبہ اللہ تعالی شعبان کی پندرھویں رات کو آسمان دنیا پر تشریف لاتا ہے اور بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ (ترمذی ) 
حضرت عثمان بن العاصؓ سے مروی نبی کریمﷺ نے فرمایا، جب نصف شعبان یعنی شعبان کی پندرھویں رات آتی ہے تو اللہ تعالی کی طرف سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا میں اس کی مغفرت کر دوں۔ ہے کوئی مانگنے والا میں اس کو عطا کر دوں۔ اس وقت جو شخص اللہ تعالی سے مانگتا ہے اسے مل جاتا ہے۔ لیکن زانیہ اور مشرک کو کچھ نہیں ملے گا۔ ( بہیقی )

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں