اتوار، 28 فروری، 2021

Para-03.کیا ہم صاحب ایمان لوگ ہیں

الکتاب (۲)

 

الکتاب (۲)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول محتشم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کتاب اللہ سے ایک حرف پڑھا اس کے لیے ایک نیکی ہے اورایک نیکی کا دس گنااجر ہے، اورمیں یہ نہیں کہتا کہ ’’الم ‘‘ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے ، اورلام ایک حرف ہے اورمیم ایک حرف ہے۔ (جامع ترمذی )حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن قرآن پڑھنے والا آئے گا تو قرآن کہے گا: اے رب ! اس کو مزین کر، تب اس کو عزت کا تاج پہنا یا جائے گا، پھر قرآن کہے گا: اے رب ! اسکو اورمزین کر، تو اس کو عزت والے حلے پہنائے جائیں گے، پھر قرآن کہے گا: اے رب ! اس سے راضی ہوجا، تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوجائے گا، پھر اس شخص سے کہا جائے گا: قرآن پڑھتا جااور(جنت کے درجوں میں )چڑھتا جااورہر آیت کے بدلہ میں اس کو نیکی دی جائیگی ۔(جامع ترمذی)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کے سینے میں قرآن نہ ہو وہ ویران گھر کی مانند ہے ۔ (جامع ترمذی)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماروایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قرآن پڑھنے والے سے کہا جائے گا: قرآن پڑھتا جا اورجنت کے درجوں میں چڑھتا جا، اورجس طرح دنیا میں آہستہ آہستہ قرآن پڑھتا تھا، اسی طرح پڑھ ، جہاں تو آخری آیت پڑھے گا وہی تیری منزل ہوگی۔(جامع ترمذی)حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا ہے: علانیہ قرآن پڑھنے والا ، علانیہ صدقہ کرنے والے کی مانند ہے اورپوشیدگی سے قرآن پڑھنے والا پوشیدگی سے صدقہ دینے والے کی مثل ہے۔ (جامع ترمذی)حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : جو شخص قرآن پڑھنے میں مشغولیت کی وجہ سے سے میرا ذکر نہ کرسکا اورمجھ سے دعانہ کرسکا ، میں اس کو دعا کرنے والوں سے زیادہ عطا فرمائوں گا، اوراللہ کے کلام کی فضیلت باقی کلاموں پر ایسی ہے جیسے اللہ کی فضیلت مخلوق پر ہے۔(جامع ترمذی)حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے ۔’’الحمد للہ رب العلمین ‘‘پڑھتے ، پھر توقف فرماتے ، پھر ’’الرحمن الرحیم ‘‘پڑھتے ، پھر ٹھہرتے ، پھر ’’مالک یوم الدین ‘‘پڑھتے ۔(جامع ترمذی)

الکتاب (۳)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ کی مخلوق سے کچھ لوگ اہل اللہ ہیں ، صحابہ نے عرض کی : یارسول اللہ ! وہ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا : اہل قرآن ، وہ اہل اللہ ہیں اوراللہ کے خاص بندے ہیں۔ (سنن کبریٰ )حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صرف دو شخصوں میں حسد (رشک )کرنا جائز ہے ، ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مادل دیا اوروہ دن رات اس مال و(اللہ کی راہ میں )خرچ کرتا ہے اوردوسرا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن دیا اوروہ دن رات قیام میں قرآن پڑھتا ہے۔(سنن کبریٰ)حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے قرآن مجید پڑھا اوراس کو حفظ کیا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کردے گااوراس کو اس کے گھر کے دس ایسے افراد کی شفاعت کرنے والا بنائے گا جن میں سے ہر ایک کے لیے جہنم واجب ہوچکی ہو۔(سنن ابن ماجہ) حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قرآن مجید پڑھانے کا حکم دیا اوراس پر برانگیختہ کیا، اورفرمایا: قیامت کے دن جب قرآن پڑھنے والے کے گھر والوں کو بہت سخت حاجت ہوگی تو قرآن ان کے پاس آئے گا اورمسلمان سے کہے گا مجھے پہچانتے ہو؟ وہ شخص کہے گا : تم کون ہو؟ وہ کہے گا: میں وہ ہوں جس سے تم محبت کرتے تھے اوراس سے جدائی کو ناپسند کرتے تھے، جو تم کو کھینچتا تھا اورتم کو قریب کرتا تھاوہ شخص کہے گا: شاید تم قرآن ہو، پھر قرآن اس کو اس کے رب کے پاس لے جائے گا، اس کے دائیں طرف فرشتہ ہوگا اوربائیں طرف جنت ہوگی، اس کے سرکے اوپر سکینہ کو رکھا جائے گا، اور اس کے ماں باپ کو تمام دنیا سے قیمتی حلے دئیے جائیں گے ، وہ کہیں گے کہ ہمارے اعمال تواس انعام کے لائق نہیں ، یہ کس چیز کا صلہ ہیں ؟ قرآن کہے گا: یہ تمہارے بیٹے کے قرآن پڑھنے کی وجہ سے ہے۔ (مجمع الزوائد )

کیا انسان کو مرشد کی ضرورت ہے؟

جمعہ، 26 فروری، 2021

Para-03.کیا ہمیں جنت کی خوشخبری مل چکی ہے

ابتلا وآزمائش ضروری ہے؟

الکتاب (۱)

 

الکتاب (۱)

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرآن مجید کا علم حاصل کرے اورلوگوں کو قرآن کریم کی تعلیم دے۔(صحیح بخاری)

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص سورہ کہف پڑھ رہا تھا ، اس کے گھر میں ایک جانور تھا، اچانک وہ جانور بدکنے لگا، اس نے دیکھا کہ ایک بادل نے اس کو ڈھانپا ہوا ہے ، اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا ذکر کیا آپ نے فرمایا: اے شخص ! پڑھتے رہو، یہ سکینہ ہے جو قرآن مجید کی تلاوت کے وقت نازل ہوتی ہے۔(صحیح مسلم)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص قرآن مجید میں ماہر ہو وہ معزز اوربزرگ فرشتوں کے ساتھ رہتا ہے اورجس شخص کو قرآن مجید پڑھنے میں دشواری ہوتی ہو اوروہ اٹک اٹک کر قرآن پڑھتا ہو اس کو دواجر ملتے ہیں ۔(صحیح بخاری )

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سنو! عنقریب فتنے برپا ہوں گے، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم ! ان فتنوں سے نکلنے کی کیا صورت ہے؟ آپ نے فرمایا : کتاب اللہ ! اس میں تم سے پہلے لوگوں کی خبریں ہیں اور تمہارے بعد والوں کیلئے پیش گوئیاں ہیں اوریہ تمہارے درمیان حکم ہے، یہ (حق اورباطل کے درمیان)فیصل ہے ، بے فائدہ نہیں ہے ، جس متکبر نے اس کو ترک کردیا اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کردے گا، جس نے اس کے علاوہ کسی اورچیز میں ہدایت کو تلاش کیا اللہ تعالیٰ اس کو گمراہی میں رہنے دے گا، یہ اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی ہے ، یہ حکمت آمیز نصیحت ہے ، یہ صراط مستقیم ہے، اس کی وجہ سے خواہشات میں کجی نہیں آئے گی ، کسی زبان کا کلام اس کے مشابہ نہیں ہوسکتا ، علماء اس سے کبھی سیر نہیں ہوں گے، باربار پڑھنے کے باوجود اس سے اکتاہٹ نہیں ہوگی، اسکے اسرار کبھی ختم نہیں ہوں گے، جنوں نے جب اس کو سنا تواس پر ایمان لانے میں بالکل توقف نہیں کیا ، اوربے ساختہ کہا : بے شک ہم نے حیرت انگیز کلام سنا جو صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے ، ہم اس پر ایمان لے آئے ، جس نے اس کے مطابق کہا اس نے سچ کہا، جس نے اس پر عمل کیا اس کو اجر دیاگیا ، جس نے اس کے مطابق حکم کیا اس نے عدل کیا ، جس نے اس کی دعوت دی وہ صراط مستقیم پر ہدایت یافتہ ہے۔ (جامع ترمذی)

سفر کربلا اور شہادت نواسہء رسول ﷺ (۳)

  سفر کربلا اور شہادت نواسہء رسول ﷺ (۳) جب حُر کو اس بات کا علم ہوا کہ یزیدی آپؓ کو شہید کرنے کا ارادہ کر چکے ہیں تو آپ یزیدی لشکر چھوڑ کر...