غفلت :انسان کے زوال کی پہلی سیڑھی(۲)
نفس کا محاسبہ کرنا چھوڑ دیا جائے تو بھی بندہ غفلت میں پڑ جاتا ہے ۔ اللہ تعالی سورۃ الحشر میں ارشاد فرماتا ہے :اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لیے کیا آگے بھیجا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔
شداد بن اوس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دانش مند وہ ہے جو اپنے نفس کو پہچانے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے ۔اور عاجز وہ ہے جو اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرے اور اللہ تعالی سے جھوٹی امیدیں باندھے ۔سیدنا فاروق اعظم ؓ نے فرمایا اپنے نفس کا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضری کے لیے تیار رہو ۔اس کا حساب قیامت کے دن آسان ہو گا جس نے دنیا میں اپنا محاسبہ کر لیا ہو گا ۔ ( ترمذی )۔
غفلت کی ایک بڑی وجہ دنیا کی ظاہری رنگینیوں میں کھو کر حرص و لالچ میں پڑ جانا بھی ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : بیشک وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے اور دنیاو ی زندگی پر راضی ہیں اور اس پر مطمئن ہو گئے اور وہ جو ہماری آیتوں سے غافل ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔بدلہ ان کی کمائی کا ۔ ( سورۃ یونس )۔
اور جو لوگ دنیا کے لالچ میں نہیں پڑتے ان کے لیے اللہ تعالی کے ہاں اجر عظیم ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ان گھروں میں جنہیں بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور ان میں اس کا نام لیا جاتا ہے اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ان میں صبح و شام ۔ وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا۔ نہ خرید و فروخت۔ وہ اللہ کی یاد اور نماز برپا رکھنے اور زکوۃ دینے سے ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں۔ ( سورۃ النور )۔
خواہشات نفس کی پیروی : غفلت کے اسباب میں سے ایک بڑی وجہ انسان کا اپنی خواہشات کے پیچھے دوڑنا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’پس وہ جس نے سر کشی اختیار کی اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دی تو جہنم ہی اس کا ٹھکانہ ہے ۔ ( سورۃ النزعٰت )۔
اسی طرح سورۃ ص میں اللہ تعالی فرماتا ہے :اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کرو کہ تمہیں اللہ کے راستے سے بہکا دیں گی۔
غافلین کی صحبت میں بیٹھنے سے بھی انسان غافل ہو جاتا ہے ۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ایسی محافل میں بیٹھے جن کی وجہ سے اس کا تعلق اللہ تعالی سے مضبوط ہو ۔ ارشاد باری تعالی ہے : اور اپنی جان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے اور تمہاری آنکھیں انہیں چھوڑ کر اور پر نہ پڑیں۔ کیا تم دنیا کی زندگی کا سنگھار چاہو گے اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیااور اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا م میں حد سے گزر گیا ۔ ( سورۃ الکہف )۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں