ہفتہ، 30 اگست، 2025

ماہ ربیع الاوّل اور ہماری ذمہ داریاں(۲)

 

ماہ ربیع الاوّل اور ہماری ذمہ داریاں(۲)

نبی کریمﷺ نے مساوات ، اخوت و بھائی چارہ اور خدمت خلق پر مبنی معاشرے کی بنیاد رکھی۔ آپ   نے عورتوں کو کھویا ہوا مقام واپس دلایا ،غلاموں کو آزادی کی راہ دکھائی اور انہیں معاشرے کا با عزت فرد قرار دیا اور یتیموں اور مسکینوں کو ان کے حقوق دلائے۔آج کے دور میں معاشرے میں ناانصافی ، ظلم و جبر اور بد عنوانی کی بڑی وجہ سیرت نبوی ﷺ  سے دوری ہے۔
حضور نبی کریمﷺ کی سیرت مبارکہ سے ہمیں خدمت خلق کا نمایاں پہلو ملتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا تم میں سے بہترین وہ ہے جو دوسروں کو نفع پہنچاتا ہے۔ آج مہنگائی بہت زیادہ ہے۔ ضرورت اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ غریب دو وقت کی روٹی سے محروم ہے یا بڑی مشکل سے میسر ہے۔جو لوگ بیمار ہیں وہ ادویات سے محروم ہیں۔ اس ماہ مقدس میں ہمیں یہ عہد کرنا ہو گا کہ ہم ضرورت مندوں کی مدد کریں گے ، یتیموں کا سہارا بنیں گے اور جس قدر ہو سکا خدمت خلق کریں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس ماہ مقدس کو اصلاح نفس ، تجدید عہد اور سنت نبوی ؐ کے احیاء کا ذریعہ بنائیں۔جب تک ہم عملی طور پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو نہیں اپنائیں گے تب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ محض زبانی دعویٰ ہے۔اگر ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حقیقی عشق ہے تو آپ ؐ کی سیرت کی عملی جھلک ہماری زندگیوں میں نظر آنی چاہیے۔ 
ماہ ربیع الاوّل کا حقیقی پیغام یہی ہے کہ ہم اپنے پیارے محبوبﷺ کی سیرت کو پڑھیں ،سمجھیں اور اس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے دوسروں تک بھی پہنچائیں۔ہمیں اپنی انفرادی زندگیوں کو عبادات ، اخلاق اور تعلقات کو سنت نبویؐ کے مطابق ڈھالنا ہوگا جبکہ اجتماعی سطح پر عدل و انصاف ، مساوات اور خدمت خلق کے اصولوں کو اپنانا ہو گا۔ 
اس ماہ مقدس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت سے وہ نبی عطا فرمایا جن کی اطاعت میں ہی ہماری نجات ہے۔ اس ماہ مقدس کی حقیقی خوشی محسوس کرنے کے لیے ہمیں اپنے دلوں میں عشق مصطفی ؐ کی شمع روشن کرنی ہو گی اور اپنی زبانوں کو درود سلام کے نذرانے سے معطر کرنا ہو گا۔اور اپنی زندگیوں میں صدق ، عدل ، خدمت اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہو گا۔ جب ہم اپنی زندگیوں کو سیرت طیبہ کے سانچے میں ڈھال لیں گے تو دنیا امن و سکون کا گہوارہ بن جائے گی اور آخرت میں بھی کامیابی ہمارامقدر بنے گی۔ربیع الاوّل ہمیں یاد دہانی کراتا ہے کہ نجات کا واحد راستہ اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی پیروی کرنا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں