اتوار، 7 ستمبر، 2025

رحمۃ اللعالمین (۲)

 

رحمۃ اللعالمین (۲)

 حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کائنات کے ذرے ذرے کے لیے سراپا رحمت ہیں۔ایک طرف حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکالیف دی جاتیں تو دوسری طرف رحمتوں اور سخاوتوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہاہوتا۔آپ کی صفت رحمت سے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مشرک اور کافر بھی سیراب ہوتے تھے۔ کفار مکہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کو طرح طرح کی اذیتیں دیں آپ کو پریشان کیا لیکن فتح مکہ کے موقع پر جب سب سردار آپ کے سامنے نظریں جھکائے کھڑے تھے آپ چاہتے تو انہیں سخت سزا دے سکتے تھے لیکن دریائے رحمت جوش میں آیا اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو معاف کر دیا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وادی طائف میں دین کی تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے تو وہاں کے اوباش لڑکوں نے آپ کو پتھر مار مار کر 
زخمی کر دیا یہاں تک کہ آپ کے نعلین مبارک خون سے بھر گئے۔ فرشتوں نے عرض کی یا رسو ل اللہ اگر آپ اجازت دیں تو انہیں دو پہاڑوں کے درمیان نیست ونابود کر دیں لیکن آپ  نے ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھائے اور عرض کی اے اللہ یہ مجھے نہیں جانتے تو انہیں ہدایت عطا فرما۔
ایک مرتبہ صحابہ کرم نے عرض کی یا رسو ل اللہ  ﷺ آپ مشرکین کے لیے بد دعا کریں آپ   نے فرمایا میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا میں تو صرف رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ ( مشکوۃ )۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غلاموں اور خادموں کے ساتھ بھی حسن سلوک بے مثال تھا۔حضرت انس بن مالک ؓ  فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت اقدس میں کئی سال گزارے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی بھی کسی غلطی پر ڈانٹا نہیں۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرندوں اور جانوروں کے لیے بھی سراپا رحمت تھے۔ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں پر بھی زیادہ بوجھ ڈالنے سے منع فرمایا۔ ایک مرتبہ سفر کے دوران صحابہ نے کسی درخت سے پرندے کے بچے اٹھا لیے تو ان کی ماں بے چین ہو کر ان کے ارد گرد چکر لگانے لگی نبی کریم ﷺ کو جب علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اس کے بچے چھین کر اسے غمگین کیوں کرتے ہو۔ آپ  نے فرمایا کہ اس کے بچے وہیں رکھ دیں۔( دلائل النبوہ )۔
حضور نبی کریم رحمۃ اللعالمین ﷺ کا پیغام آج بھی انسانیت کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ دنیا خاص طور پر مسلمان آج جن مسائل کا شکار ہیں ان کا حقیقی اور صحیح معنوں میں حل آپ  کی تعلیمات میں پوشیدہ ہے۔ اگر انسانیت عدل و انصاف ، باہمی احترام ، حقوق العباد کی پاسداری کرے اور رحم دلی کو اپنا لے تو معاشرے سے نفرت اور ظلم و جبر اور استحصال کا خاتمہ ہو جائے گا۔

حکمت کی بات - دنیا کی حقیقت

ہفتہ، 6 ستمبر، 2025

رحمۃ اللعالمین (۱)


 

رحمۃ اللعالمین (۱)

حضور نبی کریم خاتم النبینﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کائنات کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ  کو دنیا میں سراپا رحمت بنا کر بھیجا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ‘‘۔ (سورۃ الانبیاء )۔
جس طرح حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت و رسالت عالمگیر اور قیامت تک آنے والوں کے لیے ہے اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ کی رحمت بھی عالمگیر اور قیامت تک آنے والوں کے لیے ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کا ہر اک لمحہ سراپا رحمت تھا ،ہے اور قیامت تک رہے گا۔نبی کریم ﷺکی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی کا ہر ایک لمحہ اور ہر ایک پہلو سراپا رحمت ہے۔ آپ نے اپنے کردار اور طرز عمل سے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جہاں عدل و انصاف ، مساوات اور محبت کو بنیاد بنایا گیا۔
 اسلام سے قبل عرب معاشرے میں ظلم و ستم عام تھا۔ عورت کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا بلکہ اسے پیدا ہوتے ہی زندہ در گور کر دیا جاتا تھا۔ یتیموں کا مال کھانا حق سمجھا جاتا اور غلاموں پر سختی کی جاتی تھی۔ لیکن نبی کریم ﷺ کی رحمت کی بدولت تاریکیوں میں ڈوبی انسانیت کو روشنی ملی اور بکھرے ہوئے قبیلوں کو اخوت و بھائی چارے کی لڑی میں پرو دیا۔
 حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ  فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا رحمت ہونا عام ہے۔ ایمان والے کے لیے بھی اوران کے لیے بھی جو ایمان نہیں لائے۔ مومن کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہیں لائے ان کے آپ  دنیا میں رحمت ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت ان پر دنیا میں آنے والے عذاب کو مؤخر کردیا۔ یعنی ان سے زمین میں دھنسانے کا عذاب ، شکلیں بگاڑدینے کا عذاب اور جڑ سے اکھاڑ دینے کاعذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن الانبیاء )۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بحیثیت رحمۃ اللعالمین بے شمار واقعات ملتے ہیں۔ ہندہ نامی خاتون نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے پیارے چچا حضرت حمزہ ؓ کا کلیجا چبایا لیکن جب مشرف بہ اسلام ہوئی اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی کا سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے معاف فرمادیا۔
اسلام سے قبل عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا تھا ان کو وراثت اور تعلیم جیسے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی عورتوں کے ساتھ بہترین ہو اور آپ نے اپنی بیٹی حضر ت فاطمہ کے ساتھ بے پناہ پیار کرتے ہوئے فرمایا کہ فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔

راہِ نجات - جہنم کن لوگوں کے لئے ہے؟

عید الاضحی اور قربانی(۳)

  عید الاضحی اور قربانی(۳) اسلام میں قربانی کے لیے تین ایام 10 ، 11 ،12 ذی الحجہ کے دن مختص کیے گئے ہیں۔ ان تین ایام کے علاوہ کی جانے والی ق...