جمعہ، 3 اکتوبر، 2025

دنیا سے بے رغبتی

 

دنیا سے بے رغبتی

اللہ تعالیٰ نے بندوں کو دنیا میں اپنی بندگی کے لیے بھیجا ۔ لیکن بندہ اپنا اصل مقصد چھوڑ کر دنیا کی ظاہری رنگینیوں میں مبتلا ہو جائے تو پھر اس میں اس کے لیے کوئی بھلائی نہیں کیونکہ دنیا کا مال نہایت قلیل اور ختم ہونے والا اور زوال پذیر ہے ۔اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اس کی کو ئی اہمیت نہیں اس لیے بندے کو چاہیے کہ وہ دنیا سے دل نہیں لگائے اور دنیا کی محبت کو اپنے دل سے نکال دے ۔ 
دانشوروں کا قول ہے کہ شریف وہ ہے جس کو دنیا کی محبت رنج و تکلیف میں نہ ڈالے کیونکہ دنیا کے مکروہات میں مبتلا ہو کر آدمی کسی کام کا نہیں رہتا بلکہ یہاں تک کہا گیا کہ جس کو دنیا مل جائے اور وہ اس کو حاصل کرکے کے خوش ہو تو اس سے بڑا احمق کوئی نہیں ہے ۔
 حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا کوئی ایسا شخص ہو سکتا ہے کہ وہ پانی پر چلے مگر اس کے پائو ں گیلے نہ ہوں ۔ صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا دنیا دار گناہوں سے نہیں بچ سکتا ۔ 
( بہیقی‘  شعب الایمان) 
یعنی جو دنیا میں مبتلا ہو گیا اس کے لیے گناہوں سے بچنا ممکن نہیں ۔ اس لیے ضرورت سے زیادہ مال جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے انسان کو غافل کر دے اور انسان کو متکبر بنا دے نقصان دہ ہے ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے حلال دنیا (روزی)تلاش کی تا کہ گدا گری سے بچے ، اپنے گھر والوں کی خدمت اور پڑوسی کے ساتھ تعاون کرے وہ اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن اس حال میں ملے گا اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا ہو گا اور جس نے دنیا اس لیے طلب کی کہ وہ اپنا مال فخر ، تکبر اور دکھاوے کے لیے بڑھائے تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے سخت ناراض ہو گا ( مشکوۃ شریف) ۔
 حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا: جب بندہ دنیا سے بے رغبتی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں حکمت کا چشمہ جاری کر دیتا ہے ۔ اس سے اس کی زبان میں گویائی عطا کرتا ہے اسے دنیا کے عیوب اس کی بیماریوں اور اس کے علاج سے آگاہ کر دیتا ہے ۔اور اسے دنیا سے سلامتی کے ساتھ جنت کی طرف لے جاتا ہے ۔( بہیقی ، شعب الایمان) 

حکمت کی بات - خالص عبادت مگر کیسے؟

حکمت کی بات - اسلام کی حقیقت

راہِ نجات - مجرم کا انجام

Surah Az-Zumar (سُوۡرَةُ الزُّمَر) Ayat 71-72 Part-01.کیا ہم نے قرآن پاک...

Surah Az-Zumar (سُوۡرَةُ الزُّمَر) Ayat 68-70 Part-03.کیا ہم جہنم جانے ک...

جمعرات، 2 اکتوبر، 2025

غصہ پینے کی فضیلت

 

غصہ پینے کی فضیلت

غصہ کرنا انتہائی بری عادت ہے۔ اس سے بہت سارے کام بگڑ جاتے ہیں اور انسان بہت سے قیمتی رشتوں کو کھو بیٹھتا ہے۔غصہ کرنے سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ جو لوگ اپنے غصہ پر قابو رکھتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پسند یدہ بندے قرار دیا ہے۔
 ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’وہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔ ( سورۃ آل عمران )۔
سورۃ الشوری میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’ اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی سے پرہیز کرتے ہیں اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں‘‘۔ ’’ اور برائی کا بدلہ اسی کی برابر برائی ہے تو جس نے معاف کیا اور کام سنوار لیا تو اس کا اجر اللہ پر ہے بیشک وہ دوست نہیں رکھتاظالموں کو ( سورۃ الشوری)۔
بخاری شریف میں ہے کہ ایک شخص نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا مجھے وصیت فرمائیں آپ  نے فرمایاغصہ مت کیا کرو۔ اس نے پھر عرض کی یارسول اللہ ﷺ مجھے وصیت فرمائیں تو آپ ؐ نے پھر یہی فرمایا کہ غصہ مت کیا کرو۔ (بخاری شریف)۔
حضرت سیدنا ابو الدردا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور ﷺ کی بارگاہ اقدس میں عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل ارشاد فرمائیں جو مجھے جنت میں لے جائے تو آپ ؐنے فرمایا غصہ نہ کرو ، تو تمہارے لیے جنت ہے۔ ( مجمع الزوائد)۔ 
بخاری شریف میں ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ طاقتور وہ نہیں جو پچھاڑ دے بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔
 حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے عذاب روک لے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عذر پیش کیا اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرمائے گا۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس غصہ کے گھونٹ سے بہتر گھونٹ نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطرپی لیا گیا۔ ( اشعۃ اللمعات )۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو غصہ پی جائے گا حالانکہ کہ وہ نافذ کرنے پر قدرت رکھتا تھا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو اپنی رضا سے معمور فرمائے گا۔ ( کنزالعمال)۔
غصہ پر قابو پانا ایمان کی پختگی ، صبر اور برداشت کی اعلی صفت ہے۔ یہ عمل انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے اور شیطان کے شر سے بچاتا ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں محبت اور امن کو فروغ ملتا ہے۔

عید الاضحی اور قربانی(۳)

  عید الاضحی اور قربانی(۳) اسلام میں قربانی کے لیے تین ایام 10 ، 11 ،12 ذی الحجہ کے دن مختص کیے گئے ہیں۔ ان تین ایام کے علاوہ کی جانے والی ق...