جمعرات، 2 اکتوبر، 2025

غصہ پینے کی فضیلت

 

غصہ پینے کی فضیلت

غصہ کرنا انتہائی بری عادت ہے۔ اس سے بہت سارے کام بگڑ جاتے ہیں اور انسان بہت سے قیمتی رشتوں کو کھو بیٹھتا ہے۔غصہ کرنے سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ جو لوگ اپنے غصہ پر قابو رکھتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پسند یدہ بندے قرار دیا ہے۔
 ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’وہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔ ( سورۃ آل عمران )۔
سورۃ الشوری میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’ اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی سے پرہیز کرتے ہیں اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں‘‘۔ ’’ اور برائی کا بدلہ اسی کی برابر برائی ہے تو جس نے معاف کیا اور کام سنوار لیا تو اس کا اجر اللہ پر ہے بیشک وہ دوست نہیں رکھتاظالموں کو ( سورۃ الشوری)۔
بخاری شریف میں ہے کہ ایک شخص نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا مجھے وصیت فرمائیں آپ  نے فرمایاغصہ مت کیا کرو۔ اس نے پھر عرض کی یارسول اللہ ﷺ مجھے وصیت فرمائیں تو آپ ؐ نے پھر یہی فرمایا کہ غصہ مت کیا کرو۔ (بخاری شریف)۔
حضرت سیدنا ابو الدردا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور ﷺ کی بارگاہ اقدس میں عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل ارشاد فرمائیں جو مجھے جنت میں لے جائے تو آپ ؐنے فرمایا غصہ نہ کرو ، تو تمہارے لیے جنت ہے۔ ( مجمع الزوائد)۔ 
بخاری شریف میں ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ طاقتور وہ نہیں جو پچھاڑ دے بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔
 حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے عذاب روک لے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عذر پیش کیا اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرمائے گا۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس غصہ کے گھونٹ سے بہتر گھونٹ نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطرپی لیا گیا۔ ( اشعۃ اللمعات )۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو غصہ پی جائے گا حالانکہ کہ وہ نافذ کرنے پر قدرت رکھتا تھا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو اپنی رضا سے معمور فرمائے گا۔ ( کنزالعمال)۔
غصہ پر قابو پانا ایمان کی پختگی ، صبر اور برداشت کی اعلی صفت ہے۔ یہ عمل انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے اور شیطان کے شر سے بچاتا ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں محبت اور امن کو فروغ ملتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں