جمعہ، 2 اپریل، 2021

Dars-e-Quran Urdu. Dars No 1705 ( Surah Qaf Ayat 06 - 11 Part -1 ) درس ق...

قوم ثمود اور اس کا انجام(۱)

 

قوم ثمود اور اس کا انجام(۱)

قرآن کریم نے عبرت پذیری کے لئے کئی ایک سابقہ اقوام کے قصوں کا ذکر کیا ہے ،ان میں سے ایک قوم ثمود ہے،جس کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا ہے ۔قرآن کریم جب گزشتہ گزری ہوئی اقوام کا تذکرہ کرتا ہے تو اس کا مقصود اس قوم کی تاریخ اور اس کی جزئیات بیان کرنا نہیں ہوتا بلکہ اس کا مقصود ان کی تاریخ کے اس گوشہ کا بیان ہوتا ہے جس سے آنے والی نسلیں حکمت اور موعظت حاصل کریں ،اورایسے امور کا ارتکاب نہ کریں جو کسی قوم کی تباہی کی وجہ ثابت ہوئے ،ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں، اپنے اعمال پر نظر ثانی کریں اور اپنی اصلاح کے لئے مقدور بھر کوشش کریں ۔قرآن کے دیے ہوئے اشاروں کی روشنی سب مفسرین و مورخین نے امکانی حدتک ان کی تاریخ کے خدوخال واضع کرنے کی کوشش کی ہے اور یوں قرآن کے فیضان سے علم تاریخ اس اندازسے سامنے آیا جس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی۔ 
قوم ثمود کاتعلق سامی نسل سے تھا،امام ثعلبی کے نزدیک ان کے جداعلی ثمود کا شجرہ نسب اس طرح ہے،ثمودبن عاد بن عوص بن ارم بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام۔قوم ثمود جو خطہ حضر موت اور یمن سے عراق تک پھیلی ہوئی تھی اورجن کی طرف حضرت ھود علیہ السلام مبعوث کیے گئے،اللہ ذوالجلال والاکرام کی نافرمانی کے نتیجے میں عذاب کا شکار ہو گئی، حضرت ھود علیہ السلام اوران کے مؤحدپیروکارمحفوظ رہے اوروہاںسے ہجرت کرکے حجرمیں آبادہوگئے یہی ’’قوم ثمود‘‘ کہلائے ، حجر ایک میدانی علاقہ ہے، جو حجازاور شام کے درمیان وادیء قریٰ تک ہے ، آجکل ’’فج الناقہ‘‘ــ کے نام سے مشہور ہے۔اس قوم کو اللہ کریم نے خوشحالی اور فراوانی عطا کی، کھیت نہایت زرخیز، باغات سر سبز وشاداب اور میووں سے اٹے ہوئے، شیریں پانی کی نہریں اور عمدہ مرغزار دعوت نظارہ دیتے ہوئے، اس کے ساتھ انہیں عمارت گری کا ہنر عطا ہوا ، سنگلاخ پہاڑوں اور پتھریلی چٹانوں کو تراش کر نہایت خوبصورت،مضبوط اور بلند و بالاعمارتیں تعمیر کرتے۔
ثمود کی بستیوں کے آثار اور ان کے کھنڈرات آج بھی موجود ہیں،اور اس زمانے میں بھی بعض مصری اہل تحقیق نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے،ان کا بیان ہے کہ وہ ایک ایسے مکان میں داخل ہوئے،جو شاہی حویلی کہی جاتی ہے اس میں متعدد کمرے ہیں اور اس حویلی کے ساتھ ایک بہت بڑاحوض ہے اور یہ پورا مکان پہاڑ کاٹ کر بنایاگیا ہے۔ عرب کا مشہور مورخ مسعودی لکھتا ہے۔ جوشخص شام سے حجاز آتا ہے، اسکی راہ میں انکے مٹے نشان اور بوسیدہ کھنڈرات پڑتے ہیں (قصص القرآن:سہوھاردی)

Allah Tallah Say Shadeed Mohabat - اللہ تعالیٰ سے شدید محبت

جمعرات، 1 اپریل، 2021

Para-03. نیکی دراصل کیا ہے

دلجوئی کی عادت


 

دلجوئی کی عادت

 حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ریشم کی کچھ قبائیں پیش کی گئیں جن کو سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قبائوں کو کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں تقسیم کردیا اوران میں سے ایک قبا حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ کے لیے علیحدہ کرلی۔ جب حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہوئے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان سے فرمایا : یہ (قبا)میں نے تمہارے لیے چھپارکھی تھی۔ (صحیح بخاری)

 حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی ، جب آپ فارغ ہوئے تو بنوسلمہ کا ایک شخص حاضر خدمت ہوا اورعرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیک وسلم)! ہم (دعوت کے لیے) اونٹ ذبح کرنا چاہتے ہیں اورہماری خواہش ہے کہ آپ اونٹ ذبح کرنے کے موقع پر موجود ہوں۔ آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے، پھر نبی محتشم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اورہم بھی آپ کے ساتھ چل دیے ۔ ہم نے دیکھا کہ اونٹوں کو ابھی ذبح نہیں کیا گیا تھا، پھر اونٹوں کو ذبح کیاگیا، ان کو گوشت کاٹا گیا ، اسے پکایا گیا اورپھر غروب آفتاب سے پہلے ہم نے ان کا گوشت تناول کیا۔(صحیح مسلم)

 حضرت ابو رفاعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ خطبہ ارشادفرمارہے تھے ، میں نے عرض کی: یارسول اللہ (صلی اللہ علیک وسلم)! ایک مسافر حاضر خدمت ہوا ہے، وہ دین کے بارے میں پوچھنے آیا ہے ، اسے کچھ خبر نہیں کہ اس کا دین کیا ہے ،(اس پر)حضور ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے ، آپ نے خطبہ چھوڑ دیا اورمیرے پاس تشریف لے آئے، آپ کی خدمت میں کرسی پیش کی گئی، میرے خیال میں اس کرسی کے پائے لوہے کے تھے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کرسی پر جلوہ افروز ہو گئے، آپ کو اللہ تعالیٰ نے جو علم عطافرمایا تھا اس میں سے مجھے بھی تعلیم فرمانے لگے ، پھر آپ خطبے کے لیے تشریف لے گئے اورخطبے کو مکمل کیا۔ (صحیح مسلم)

 حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں : حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھ سے فرمایا : اے میرے بیٹے ! (صحیح مسلم)

ہماری پریشان کی اصل وجہ کیا ہے؟

Dars-e-Quran Urdu. Dars No 1704 ( Surah Qaf Ayat 05 Part - 2 ) درس قرآن ...

سفر کربلا اور شہادت نواسہء رسول ﷺ (۳)

  سفر کربلا اور شہادت نواسہء رسول ﷺ (۳) جب حُر کو اس بات کا علم ہوا کہ یزیدی آپؓ کو شہید کرنے کا ارادہ کر چکے ہیں تو آپ یزیدی لشکر چھوڑ کر...