دل کی بیماریاں اور ان کا علاج(۲)
سورۃ المؤمن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں بہت جلد جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے۔حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کے دل میں رائی کے برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ ( مسلم شریف )۔
تکبر کا علاج عاجزی و انکساری ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی حقیقت کو پہچانے کہ وہ مٹی سے پیدا ہوا ہے اور ایک دن اسی مٹی میں دفن ہو جانا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں ‘‘۔جب انسان میں عاجزی پیدا ہوتی ہے تو تکبر خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ بغض و کینہ دل کی بیماریوں میں سے ہیں۔یہ انسان کے اندر نفرت اور دشمنی کو بڑھاوا دیتے ہیں جس سے معاشرے میں انتشار پیداہوتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بغض اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے سے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔(سورۃ المائدہ )۔
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سرور کائناتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شب برات کی رات اللہ تعالیٰ تمام بخشش مانگنے والوں کو بخش دیتا ہے اور رحمت طلب کرنے والوں پر رحمت نازل فرماتا ہے لیکن جو لوگ کینہ رکھتے ہیں ان کے معاملے کو موخر اور ملتوی فرما دیتا ہے۔ ( کنزالعمال )۔
بغض و کینہ سے بچنے کا بہترین راستہ یہی ہے کہ انسان معاف کرنا سیکھے ، در گزر کرے اور دل کو صاف رکھے۔اس معاملے میں نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے حضور نبی کریمﷺ عفو در گزر کرنے والے تھے۔ ان تمام بیماریوں سے بچنے کے بنیادی اصول یہ ہیں کہ انسان کثرت سے ذکر الٰہی کرے کیونکہ دلوں کا سکون اور پاکیزگی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے حاصل ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت کریں کیونکہ قرآن مجید دل کی بیماریوں کے لیے شفاء ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں ہدایت عطافرمائے اور ہمارے دلوں کی اصلاح فرمائے۔ نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھیں اور اپنے نفس کا محاسبہ کریں۔اپنے نفس کا محاسبہ کرنا دل کی اصلاح کا بہترین ذریعہ ہے۔انسان کو چاہیے کہ اپنے اندر جھانکے اور اپنی اصلاح کرے اور خود کو تکبر ، حسداور بغض و کینہ جیسی خطرناک بیماریوں سے بچائے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں