ہفتہ، 13 ستمبر، 2025

حضور نبی کریمﷺ کا حسن معاشرت(2)

 

  

  حضور نبی کریمﷺ کا حسن معاشرت(2)

حضور نبی کریم ﷺ کا حسن معاشرت ساری دنیا سے اعلی و ارفع ہے۔حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو معاشرے میں رہنے کے آداب سکھائے۔ جن پر عمل کر کے کوئی بھی شخص معاشرے میں اپنی عزت و مقام کو بلند کر سکتا ہے۔ 
حضور نبی کریم ﷺ کا حسن معاشرت انسانیت کو عدل ،محبت ، خیر خواہی اور حسن سلوک کے حقیقی مفاہیم سے روشناس کراتا ہے۔
بنی عامر قبیلہ کا ایک آدمی حضور نبی کریمﷺ کے پاس آیا اور باہر کھڑا ہو کر اجازت طلب کی کہ کیا میں اندر آ جائوں۔حضور نبی کریمﷺ نے اپنے خادم کو حکم دیا جائو اسے اذن طلب کرنے کا صحیح طریقہ بتائو۔ اسے کہو جب اجازت طلب کرو تو کہو السلام علیکم اور پھر اندر آنے کی اجازت مانگو۔ اس آدمی نے حضور ﷺ کا یہ جملہ سن لیا پھر اس نے کہا السلام علیکم۔ کیا میں اندر آ سکتا ہوں۔پھر آپﷺ نے اسے اندر آنے کی اجازت دی۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو نہ داخل ہوا کرو دوسروں کے گھروں میں اپنے گھروں کے علاوہ جب تک تم اجازت نہ لے لو اور سلام نہ کر لو ان گھروں میں رہنے والوں کو۔‘‘( سورۃ النور )۔
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضرہوا اور دروازے پر دستک دی۔ آواز آئی کون میں نے کہا میں ہوں۔ حضور نبی کریم ﷺکو میرا یہ جواب پسند نہ آیا اور آپ ﷺ خود باہر تشریف لائے اور 
مجھے بتایا جب پوچھا جائے کون ہے تو میں نہ کہو بلکہ اپنا نام بتائو۔ ( سبل الہدی )۔
حضور نبی کریم ﷺ جب کسی مجمع میں تشریف لے جاتے تو جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتے اور صحابہ کرام کو بھی یہی حکم فرماتے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کے درمیان بیٹھتے۔ جب کوئی ناواقف اعرابی آتا تو اسے یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ آپ ﷺ کہاں تشریف فرما ہیں۔ انہیں لوگوں سے پوچھنا پڑتاتھا۔ پھر ہم نے حضور نبی کریمﷺ سے اجازت طلب کی اور ایک چبوترہ بنا دیا تاکہ جب کوئی اعرابی آئے تو آپﷺ کو آسانی سے پہچان لے۔ 
 حضور نبی کریم ﷺ جب چلتے تو پوری قوت کے ساتھ چلتے تھے اس میں سستی نہ ہوتی۔ حضور نبی کریم ﷺ جب چلا کرتے تو یوں محسوس ہوتا کہ بلندی سے نشیب کی طرف جارہے ہیں اور جب آپ ﷺ چلا کرتے تو قدم جما کر رکھتے جس سے پتہ چلتا کہ حضورﷺ جلدی میں نہیں ہیں۔ (سبل الہدی )۔
حضرت علیؓ فرماتے ہیں جب آپ ﷺ زمین پر چلتے تو پائوں زور کے ساتھ اٹھاتے جیسے مستعد اور مضبوط لوگوں کی چال ہے، یہ نہیں کہ چھوٹے چھوٹے قدم مغروروں یاعورتوں کی طرح رکھتے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں