اسلامی معاشرت کے اصول (۱)
اسلامی معاشرت ان اصولوں پر قائم ہے جو انسان مہذب ، متوازن اور پْر امن زندگی گزارنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔اسلامی معاشرت کا مقصد ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں محبت ، احترام اور بھائی چارہ فروغ پائے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک دوسرے پر حسد نہ کرو۔کوئی چیز خریدنے کا ارادہ نہ ہو اور کوئی دوسرا شخص خرید رہا ہو تو بلا وجہ اس کی بولی لگا کر قیمت نہ بڑھائو کہ وہ چیز اسے مہنگی ملے۔ آپس میں بغض نہ رکھو۔ ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو۔کسی کی بیع پر کوئی شخص بیع نہ کرے۔اللہ کے بندو بھائی بھائی بن کر رہو۔ وہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ مسلمان بھائی پر نہ ظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مدد ترک کرتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔ آپ ﷺنے سینے کی طرف اشارہ کر کے تین بار فرمایا تقوی یہاں ہے۔ انسان کے لیے اتنا گناہ ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون ، مال اور عزت حرام ہے۔ (مسلم )۔
اس حدیث مبارکہ میں حضور نبی کریم ﷺ نے معاشرے کی چند بنیادی خرابیوں کی نشاندہی کی ہے جن کو معمولی سمجھا جاتا ہے اور انہیں نظر انداز کرتے ہوئے اہمیت نہیں دی جاتی۔ لیکن یہ وہ اخلاقی بیماریاں ہیں جن کی وجہ سے معاشری زوال پذیز ہوتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے حسد کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔حسد سے مْراد یہ ہے کہ کسی کے پاس کوئی چیز دیکھ کر اس سے وہ چیز چھن جانے کی تمنا کرے۔حاسد بلا وجہ حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہے اور اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے اندر اگلی امتوں کا ایک مرض گھس آیا ہے اور یہ حسد اور بغض کی بیماری ہے۔ یہ مونڈنے والی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ بال مونڈنے والی بلکہ یہ دین مونڈنے والی ہے (یعنی دین ختم کر دینے والی )۔
بخاری شریف کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو روا نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان سے حسد کرے۔البتہ صرف دو آدمیوں سے رشک کرنے کی اجازت ہے ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور وہ دن رات اسے راہ خدا میں خرچ کرتا ہو اور دوسرا وہ جسے اللہ تعالیٰ نے علم عطا کیا ہو اور وہ دن رات اسے لوگوں تک پہنچاتا اور سناتا ہو۔
اس حدیث مبارکہ میں حسد کی مذمت اور رشک کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔حسد یہ ہے کہ کسی سے کوئی چیز چھن جانے کی تمنا کرنا اور رشک یہ کہ کسی کے پاس کوئی چیز دیکھ کر خوش ہونا ہے اور اس نعمت کے حصول کی خواہش رکھنا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں