عدل و انصاف کی عملی مثالیں(۱)
کسی بھی معاشرے میں امن و امان کے لیے عدل و انصاف ضروری ہے ۔ اگر معاشرے سے عدل و انصاف کو نکال دیا جائے تو ایسے معاشرے میں امن و امان کی صورت حال انتہائی خراب ہو جاتی ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے : اور جب بات کہو تو انصاف کی بات کہو اگرچہ تمہارے رشتہ دار کا معاملہ ہو۔ اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو۔ یہ تمہیں تاکید فرمائی کہ کہیں تم نصیحت مانو ۔ (سورۃالانعام )۔
اسی طرح سورۃ المائدہ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : اے ایمان والو اللہ کے حکم پر خوب قائم ہو جاؤ انصاف کے ساتھ گواہی دیتے ہوئے۔ اور تم کو کسی قوم کی عداوت اس پر نہ ابھارے کہ انصاف نہ کرو ، انصاف کرو وہ پرہیز گاری سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔
حضور نبی رحمتﷺ کی حیات مبارکہ عدل و انصاف کا کامل نمونہ ہے ۔ آپ ﷺ نے نہ صرف عدل کی تعلیم دی بلکہ عملی زندگی میں اس کا ایسا اعلی معیار قائم کیا جس کی مثال تاریخ انسانیت میں نہ ملی ہے اور نہ ہی قیامت تک ملے گی ۔
حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ہنسی مذاق کرنے والے آدمی تھے۔ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں لوگوں کو ہنسا رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کی کمر پر چھڑی ماری ۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی مجھے تکلیف ہوئی ہے ۔نبی رحمت ﷺ نے فرمایا تم بدلہ لے لو ۔ انہوں نے کہا کہ میرے جسم پر کپڑا نہیں تھا لیکن آپ ﷺ کے جسم اطہر پر کپڑا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی قمیض مبارک اوپر اٹھائی تو حضرت اسیدرضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے لپٹ گئے اور آپﷺ کو بوسہ دیا اور عرض کی یا رسول اللہ میرا یہی ارادہ تھا ۔( ابو داؤد )۔
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مرض ایام میں نبی کریم ﷺ میرا ہاتھ پکڑ کر مسجد تشریف لے گئے اور منبر پر تشریف فرما ہو کر فرمایا :اے لوگوں اگر میں نے کسی کی پیٹھ پر کبھی کوئی کوڑا مارا تو یہ میری پیٹھ حاضر ہے وہ مجھ سے بدلہ لے لے اور میں نے کسی کو بُرا بھلا کہا ہے تو میری آبرو حاضر ہے وہ مجھ سے انتقام لے لے ۔اور اگر میں نے کسی کا مال لیا ہے تو یہ میرا مال حاضر ہے وہ اپنا حق لے لے ۔کوئی شخص یہ ہر گز نہ کہے کہ میں ان سے ناراض ہو جاؤں گا ۔ غور سے سن لو ناراض ہونا نہ میرا مزاج ہے اور نہ میری شان ۔خبر دار تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جس کا اگر مجھ پر کوئی حق ہے تو وہ لے لے ۔(معجم الاوسط )۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں