اتوار، 30 مارچ، 2025

راہِ نجات - زندگی میں سب سے زیادہ اہم کام کیا ہے؟

Surah Al-Room (سُوۡرَةُ الرُّوم) Ayat 41-45 Part-03.کیا ہم حق کو عَمَلاً...

Surah Al-Room (سُوۡرَةُ الرُّوم) Ayat 41-45 Part-02.کیا ہم صرف رسمی مسلم...

صدقہ فطر

 

صدقہ فطر

فطر کے معنی روزہ کھولنے یا روزہ نہ رکھنے کے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایک صدقہ مقرر فرمایا ہے کہ رمضان المبارک کے ختم ہونے پر روزہ کھل جانے کی خوشی اور شکریہ کے طور پر ادا کرے اسے صدقہ فطر کہتے ہیں اور روزہ کھلنے کی خوشی منانے کا دن ہونے کی وجہ سے رمضان شریف کے بعد والا دن عید الفطر کہلاتا ہے۔ 
نصاب زکوۃ اور نصاب صدقہ فطر کی مقدار تو ایک ہی ہے لیکن زکوۃ کے نصاب اور صدقہ فطر کے نصاب میں فرق یہ ہے کہ زکوۃ فرض ہونے کے لیے سونا ، چاندی یا مال تجارت ہونا ضروری ہے اور صدقہ فطر واجب ہونے میں ان تینوں کی خصوصیت نہیں بلکہ اس کے نصاب میں ہر قسم کا مال حساب میں لیا جاتا ہے۔ اگرکسی شخص کے پاس اس کے استعمال کے کپڑوں سے زائد کپڑے رکھے ہوئے ہوں یا روزمرہ کی ضرورت کی اشیاء میں کوئی زائد چیزیں ہوں یا کوئی مکان خالی پڑا ہو تو اس پر زکوۃ فرض نہیں مگر صدقہ فطر واجب ہے۔ صدقہ فطر کے مال پر سال بھر گزرنا لازم نہیں بلکہ وہ اسی دن بھی صاحب نصاب ہوا ہو تو پھر بھی صدقہ فطر واجب ہے۔ 
ہر شخص مال نصاب پر اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے صدقہ دینا واجب ہے لیکن نابالغوں کا اگر اپنا مال ہو تو ان کے مال میں سے ادا کرے۔ صدقہ فطر ادا کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ جس نے روزے رکھے ہیں وہ ہی صدقہ فطر ادا کرے گا بلکہ جس نے روزے نہیں رکھے اس پر صدقہ فطر واجب ہے۔ صدقہ فطر عید کے دن سے پہلے رمضان المبارک میں بھی دینا جائز ہے۔ عید کے دن عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے دینا بہتر ہے اور اگر نماز کے بعد ادا کرے تو یہ بھی جائز ہے۔ لیکن جب تک کوئی شخص صدقہ فطر ادانہ کرے گا تو وہ اس کے ذمہ واجب رہے گا چاہے کتنی ہی مدت کیوں نہ گزر جائے۔ جن لوگوں کو زکوۃ دینا جائز ہے ان لوگوں کو صدقہ فطر دینا بھی جائز ہے اور جن لوگوں کو زکوۃ نہیں دے سکتے ان لوگوں کو صدقہ فطر بھی نہیں دے سکتے۔ صدقہ فطر ایک آدمی کو بھی دے سکتے ہیں اور ایک سے زیادہ لوگوں میں بھی بانٹا جا سکتا ہے اسی طرح ایک سے زیادہ لوگ بھی ایک آدمی کو صدقہ فطر دے سکتے ہیں۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایاجب تک کوئی بندہ صدقہ فطر ادا نہیں کرتا اس وقت تک اس کے روزے زمین اور آسمان کے درمیان معلق رہتے ہیں۔ اس سال فی کس صدقہ فطر کی مقدار 240 روپے مقرر کی گئی ہے۔
صدقہ فطر ایک پاکیزہ عمل ہے جو مسلمانوں کو معاشرتی بھلائی اورمستحق افراد کی مدد کی ترغیب دیتا ہے۔ صدقہ فطر خوش دلی کے ساتھ وقت پر ادا کرنا چاہیے تا کہ حقیقی معنوں میں اس کے فوائد حاصل کیے جاسکیں۔