Maarifulquran O Hadees
اللہ تعالی کی طرف سے بہت ہی آسان فلاح کا راستہ سنیے اور عمل کیجئے تاکہ ہم سب فلاح پا لیں . ہر قسم کی تفرقہ بازی اور مسلکی اختلافات سے بالاتر آسان اور سلیس زبان میں
جمعہ، 16 جنوری، 2026
مجاہدۂ نفس
مجاہدۂ نفس
لفظ جہاد اور مجاہدہ کسی مقصد کی تکمیل میں اپنی پوری طاقت صرف کرنے اور اس کے لیے مشقت برداشت کرنے کے معنوں میں آتا ہے ۔ اور اس میں پورا اخلاص اللہ کے لیے ہو اور نمود و نمائش بالکل بھی نہ ہو ۔ نفس امارہ جو ہر وقت انسان کو برائی کی طرف راغب کرتا ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کے لیے پوری کوشش کرتا ہے ۔ ایک مرتبہ جنگ سے واپسی پر حضور نبی کریم ﷺ نے مجاہدین سے فرمایا: ’ خوش آمدید تم ایک چھوٹے جہادکی طرف سے بڑے جہا د کی طرف آ گئے ہو ۔ صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی یا رسول اللہؐ، وہ بڑا جہاد کیا ہے ۔ آپؐ نے فرمایا، بندے کا اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنا ۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آپؐ نے صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین سے دریافت کیا تم پہلوان کسے کہتے ہو ؟ انھوں نے جواب دیا جس کو لوگ بچھاڑ نہ سکیں ۔ آپؐ نے فرمایا، نہیں، پہلوان وہ ہے جو غصے میں اپنے نفس کو قابو میں رکھے ۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت ، طویل قرأ ت کے ساتھ نماز کا ادا کرنا اور کلمہ طیبہ کی تکرار کرنا ان تین چیزوں میں سے ایک میں ضرور مشغول رہیں ۔ اور کلمہ لا سے اپنے نفس کی خواہشات کے معبودوں کی نفی کرنی چاہیے اور اپنی تمام مرادوں اور مقاصد کو دور کرنا چاہیے ۔ اپنی مراد کا دعویٰ کرنا اپنی الوہیت کا دعویٰ کرنا ہے سینہ کی وسعت میں کسی مراد کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے اور کوئی ہوس قوت خیالیہ میں نہیں رہنی چاہیے تا کہ بندگی کی حقیقت حاصل ہو جائے ۔اپنی مراد کا طلب کرنا گویا اپنے مولی کی مراد کو دفع کرنا اور اپنے مالک کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے اس امر میں اپنے موالیٰ کی نفی اور خود مولیٰ بننے کا اثبات ہے اس امر کی برائی اچھی طرح معلوم کر کے اپنی الوہیت کے دعویٰ کی نفی کرو تا کہ تمام ہوا و ہوس سے کامل طور پر پاک ہو جائو اور طلب مولیٰ کے سوا تمھاری کوئی مراد نہ رہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’ اور جنھوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انھیں اپنے راستے دکھا دیں گے اور بے شک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے ‘۔ اللہ تعالیٰ اپنا قرب تلاش کرنے والے کی رہنمائی فرماتا ہے اور پھر اس کی خامیاں اور عیب اس پر واضح کر دیتا ہے ۔حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی بھلائی چاہتا ہے تو اس کے نفس کے عیوب اس پر ظاہر کر دیتا ہے ۔
جمعرات، 15 جنوری، 2026
خواہشاتِ نفس کی پیروی(۱)
خواہشاتِ نفس کی پیروی(۱)
انسان نا سمجھی میں خواہشات نفس کی پیروی کرتا رہتا ہے اور اسے اس بات کا اندازہ تک نہیں ہوتا کہ وہ کتنا بڑا گناہ کر رہا ہے اور اس سے اللہ تعالی کی نا فرمانی ہو تی ہے ۔ سورۃ الجاثیہ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :’’ بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرا لیا اور اللہ نے اس کے کان اور دل پر مُہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا تو اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے گا۔ تو کیا تم دھیان نہیں کرتے‘‘۔
آیت مبارکہ میں خواہشات نفس کو خدا بنا لینے سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی اس حد تک کرنے لگ جائے کہ اللہ تعالی کے احکام کو بھول جائے اور جو کام کرنے کو دل کرے اسے کر ڈالے بیشک اس کام کو اللہ نے حرام ہی کیوں نہ کہا ہو ۔ اور جس کام کو اس کا دل نہ چاہتا ہو اس کو نہ کرے بیشک اللہ تعالی نے اس کام کو فرض قرار دیا ہو ۔
جب انسان خواہش نفس کا اس حد تک فرمانبردار بن جاتا ہے کہ جدھر اس کا نفس کہے اس طرف چل پڑے اس کے متعلق اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اسے علم رکھنے کے باوجود گمراہی میں دھکیل دیا جاتا ہے ۔ اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی جاتی ہے اور اس کی آنکھوں پر پردے ڈال دیے جاتے ہیں اوراللہ کے سوا کوئی بھی انہیں ہدایت نہیں دے سکتا ۔ لہذا ہمیں اس بات پر غور و فکر کرنا چا ہیے کہ انسان کے لیے اس سے زیادہ بد بختی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اپنے نفس کی پیرویکرنے کی وجہ سے اللہ تعالی اسے ہدایت سے محروم کر دیتا ہے اور ان کے دلوں سے عرفان صداقت ختم کر دیتا ہے اور نور حق دیکھنے والی بینائی ختم کر دی جاتی ہے ۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ خدا ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ زیر آسمان دنیا میں جتنے معبودوں کی عبادت کی گئی ہے ان میں سب سے زیادہ مبغوض اللہ کے نزدیک ہوا ہے یعنی خواہش نفس ۔(طبرانی)۔
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دانشمند وہ شخص ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور ما بعد الموت کے واسطے عمل کرے اور فاجر وہ ہے جو اپنے نفس کو اس کی خواہش کے پیچھےچھوڑ دے اور اس کے باوجود اللہ تعالی سے آخرت کی بھلائی کی توقع کرے ۔
حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تمہاری بیماری تمہاری نفسانی خواہشات ہیں ۔ ہاں اگر تم ان کی مخالفت کرو تو یہ بیماری میں تمہاری دوا بھی ہے ۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
-
دنیا کی زندگی ،ایک امتحان (۱) اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک عظیم مقصد کے تحت پیدا فرمایا ہے۔دنیا کی یہ زندگی ایک کھیل تماشا نہیں بلکہ ایک سن...

