بدھ، 4 فروری، 2026

ہمسائیوں کے حقوق

 

ہمسائیوں کے حقوق

ارشاد باری تعالی ہے : ”اور عبادت کرو اللہ کی اور نہ شریک ٹھہراؤ اس کے ساتھ کسی کو اور والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ نیز رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور پڑوسی جو رشتہ دار ہے اور وہ پڑوسی جو رشتہ دار نہیں “۔(سورۃ النساء)۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جبرائیل امین ہمیشہ مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے حتی کہ مجھے لگا کہ اسے وراثت میں بھی حصہ دار بنا دیا جائے گا ۔ ( بخاری شریف ) ۔
ایسا پڑوسی جو رشتہ دار ہو اور پڑوس میں رہتا ہو اس کے دو حقوق ہیں ہے ایک قرابت کی وجہ سے اور دوسرا پڑوسی ہونے کی حیثیت سے ۔ جبکہ اجنبی یا غیر رشتہ دار کا ایک حق ہوتا ہے اور وہ پڑوس کا حق ہے۔ لیکن پڑوسی رشتہ دار ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں پڑوسی کی عزت و تکریم ، باہمی خیر خواہی اور حسن سلوک کرنا ضروری ہے ۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے دوستوں کے حق میں بہتر ہے اور اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بہتر پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسیوں کے حق میں بہتر ہے ۔ ( ترمذی )۔
گھر کے بالکل ساتھ والے پڑوسی کا حق زیادہ ہے اس پڑوسی کی نسبت جو دور رہتا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں میں نے حضور نبی کریم ﷺ سے پوچھا یارسول اللہ ﷺ میرے پڑوس میں دو عورتیں رہتی ہیں ان دونوں میں سے میں کس کو کوئی چیز بطور ہدیہ بھیجا کرو ں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، جس کا دروازہ آپ کے گھر کے نزدیک ہے ۔ ( بخاری شریف )۔
کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف پہنچائے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے پڑوسی کو ایذا یا تکلیف دینے سے بڑی سختی سے منع فرمایا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ تعالی پر اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے ۔ ( بخاری شریف )۔
حضرت ابو شریح رضی اللہ تعالی عنہ ے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم وہ شخص ایمان والا نہیں ! اللہ کی قسم وہ شخص ایمان والا نہیں ! آپ ﷺ سے عرض کی گئی یا رسو ل اللہ ﷺ کونسا شخص؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہیں ۔ (بخاری شریف )۔
 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی اہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے مامون نہ ہو ۔( مسلم شریف )۔

منگل، 3 فروری، 2026

Surah Ash-Shura Ayat 44-45 Part-01 .کیا ہم نے دنیا کی یاد میں مشغول ہو ...

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 41-43 .کیا ہم اللہ کی مرضی کے خ...

ماہ شعبان اور شب برأ ت(۲)

 

ماہ شعبان اور شب برأ ت(۲)

حضرت انسؓ فرماتے ہیں نبی کریمﷺ نے فرمایا ماہ رمضان کے لیے تم اپنے بدنوں کو شعبان کے روزوں سے پاک کر لیا کرو کیونکہ جو شعبان کے تین روزے رکھتا ہے اور پھر افطاری سے پہلے مجھ پر کثرت سے درود شریف پڑھتا ہے تو اللہ تعالی اس کے سابقہ گناہ بخش دیتا ہے اور اس کی روزی میں برکت فرماتا ہے۔ اورمجھے جبرائیل علیہ السلام نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالی اس ماہ مقدس میں رحمت کے تین سو دروازے کھول دیتا ہے۔حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شعبان میں ایک روزہ رکھتا ہے اللہ تعالی اس کو حضرت ایوب اور حضرت دائود علیہ السلام کا سا ثواب عطا فرماتا ہے اور اگر اس نے پورا مہینہ روزے رکھے تو اللہ تعالی موت کی سختیوں کوآسان فرما دے گا اور قبر کی تاریکی ، منکر نکیر کی دہشت اس سے دور رکھے گا اور قیامت کے دن اس کے عیبوں پر بھی پردہ ڈالے گا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے قسم ہے اس روشن کتاب کی۔ بے شک ہم نے اسے اتارا برکت والی رات میں ہم ڈر سنانے والے ہیں۔ اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام ہمارے حکم سے بے شک ہم بھیجنے والے ہیں۔ ( سورۃ الدخان )
مفسرین کے مطابق اسے آیت مبارکہ میں لیلۃ مبار کہ سے مراد شب برأت کی رات ہے۔ اس رات اللہ تعالی اپنی رحمت کا نزول فرماتا ہے۔ماہ شعبان کی پندرھویں رات کو اللہ تعالی اپنی شان کریمی کے طفیل رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور گناہ گاروں کی بخشش فرماتا ہے۔سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نصف شعبا ن کی شب آسمان دنیا پر تشریف فرماتا ہے اور اس رات مشرک اور بغض رکھنے والوں کے علاوہ سب کو بخشش دیا جاتا ہے۔ ( بہیقی ) 
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے نبی کریمﷺ کو اپنے پاس نہ پایا تو میں آپؐ کو دیکھنے نکلی آپؐ جنت ا لبقیع میں تشریف فرما تھے۔آپؐ نے فرمایا، اے عائشہ، کیا تمھیں یہ خیال آیا کہ اللہ اور اس کا رسولؐ تمھارا خیال نہیں رکھیں گے۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کی، یا رسول اللہﷺ، مجھے یہ خیال آیا کہ شاید آپؐ کسی دوسری اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا، بلا شبہ اللہ تعالی شعبان کی پندرھویں رات کو آسمان دنیا پر تشریف لاتا ہے اور بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ (ترمذی ) 
حضرت عثمان بن العاصؓ سے مروی نبی کریمﷺ نے فرمایا، جب نصف شعبان یعنی شعبان کی پندرھویں رات آتی ہے تو اللہ تعالی کی طرف سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا میں اس کی مغفرت کر دوں۔ ہے کوئی مانگنے والا میں اس کو عطا کر دوں۔ اس وقت جو شخص اللہ تعالی سے مانگتا ہے اسے مل جاتا ہے۔ لیکن زانیہ اور مشرک کو کچھ نہیں ملے گا۔ ( بہیقی )

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 38-40 Part-04 .کیا ہم اپنی جان ...

اصلاح معاشرہ اور ہمارا کردار

  اصلاح معاشرہ اور ہمارا کردار انسان اپنی سوچ اور افکارو نظریات کے گرد گھومتا ہے یہ وہ کچھ ہی کرتا ہے جو اس کا نظریہ اسے کرنے کو کہتا ہے۔ اس...