اللہ تعالی کی طرف سے بہت ہی آسان فلاح کا راستہ سنیے اور عمل کیجئے تاکہ ہم سب فلاح پا لیں . ہر قسم کی تفرقہ بازی اور مسلکی اختلافات سے بالاتر آسان اور سلیس زبان میں
اتوار، 8 دسمبر، 2024
ذکر اور دعا
ذکر اور دعا
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے افضل ذکر لا الہ الا اللہ اور سب سے بہترین دعا الحمدللہ ہے۔( ابن ماجہ )۔
ذکر اور دعا صاحب معرفت انسان کے تخلیقی کلمات ہیں۔ انسان کی زندگی میں مختلف واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ اگر آدمی کے اندر سوچنے کی صلاحیت ہو تو وہ اس بات کو ضرور سمجھ لے گا کہ ان مواقعوں پر اللہ تعالیٰ کی یاد کا کوئی نہ کوئی پہلو لازمی موجود ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ ان لمحات میں جس قدر ہو سکے رب ذوالجلال کا ذکر کرے اور کثرت کے ساتھ دعا کرے۔ ایک روایت میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے یا پھر مالک کائنات سے دعا فرماتے تھے۔
ترمذی شریف کی روایت ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دعا عبادت کا مغز ہے۔ ترمذی شریف ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے دعا ہی اصل عبادت ہے۔
یہ بات قرآن و حدیث میں مختلف انداز میں بیان کی گئی ہے دعا کا عین عبادت ہونا فطری ہے۔ کیوں کہ انسان جب اللہ تعالیٰ کے وجود کو اس کی صفات کمال کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اسی کے ساتھ انسان یہ بھی دریافت کرتا ہے کہ خدا کے مقابلے میں میں بالکل بے حقیقت ہوں۔
خدا آقا ہے میں بندہ ہوں ، خدا دینے والا ہے اور میں طالب ہوں ، خدا حاکم ہے اور میں محکوم ہوں۔ خدا قادر مطلق ہے اور میں عاجز اور محتاج ہوں۔ یہی احساس بندے کو فوری طور پر اللہ تعالیٰ کے سامنے دعا گو بنا دیتا ہے۔
دعا ہی وہ سب سے بڑا رشتہ ہے جس کے ذریعے بند ہ اپنے رب سے مربوط ہوتا ہے۔ دعا خدا اور بندے کے درمیان اتصال کا ذریعہ ہے۔ انسان جو کچھ بھی حاصل کرتا ہے دعا سے حاصل کرتا ہے۔ اور تمام اعمال کا مقصد آدمی کو خدا سے دعا کرنے والا بنانا ہے تا کہ وہ خدا سے پانے والا بن جائے۔
دعا صرف کچھ الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ دعا ایک عمل ہے بلکہ دعا سب سے بڑا عمل ہے جس طرح حقیقی عمل کبھی بے نتیجہ نہیں رہتا اسی طرح حقیقی دعا بھی کبھی بے نتیجہ نہیں رہتی۔ جب کوئی بندہ حقیقی دعا کرتا ہے تو وہ گویا اپنے معاملات کو خدا کے سپرد کر دیتا ہے اور جب معاملات خدا کے سپر د تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کو پورا کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور اس کی بارگاہ میں دست التجا بلند کرنے سے انسان کو اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے اور اسے پریشانیوں سے نجات ملتی ہے۔
ہفتہ، 7 دسمبر، 2024
دنیا سے بے رغبتی
دنیا سے بے رغبتی
اللہ تعالیٰ نے بندوں کو دنیا میں اپنی بندگی کے لیے بھیجا۔ لیکن بندہ اپنا اصل مقصد چھوڑ کر دنیا کی ظاہری رنگینیوں میں مبتلا ہو جائے تو پھر اس میں اس کے لیے کوئی بھلائی نہیں کیونکہ دنیا کا مال نہایت قلیل اور ختم ہونے والا اور زوال پذیر ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی حیثیت مچھرکے پر کے برابر بھی نہیں ہے۔ اس لیے بندے کو چاہیے کہ وہ دنیا سے دل نہیں لگائے اور دنیا کی محبت کو اپنے دل سے نکال دے۔
دانشوروں کا قول ہے کہ شریف وہ ہے جس کو دنیا کی محبت رنج و تکلیف میں نہ ڈالے کیونکہ دنیا کی مکروہات میں مبتلا ہو کر آدمی کسی کام کا نہیں رہتا۔ بلکہ یہاں تک کہا گیا کہ جس کو دنیا مل جائے اور وہ اس کو حاصل کرکے کے خوش ہو تو اس سے بڑا احمق کوئی نہیں ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا کوئی ایسا شخص ہو سکتا ہے کہ وہ پانی پر چلے مگر اس کے پائوں گیلے نہ ہوں۔ صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا دنیا دار گناہوں سے نہیں بچ سکتا۔ (بہیقی ، شعب الایمان)۔
یعنی جو دنیا میں مبتلا ہو گیا اس کے لیے گناہوں سے بچنا ممکن نہیں۔ اس لیے ضرورت سے زیادہ مال جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے انسان کو غافل کر دے اور انسان کو متکبر بنا دے نقصان دہ ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا : جس شخص نے حلال دنیا (روزی) تلاش کی تا کہ گدا گری سے بچے ، اپنے گھر والوں کی خدمت اور پڑوسی کے ساتھ تعاون کرے وہ اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن اس حال میں ملے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا ہو گا اور جس نے دنیا اس لیے طلب کی کہ وہ اپنا مال فخر ، تکبر اور دکھاوے کے لیے بڑھائے تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے سخت ناراض ہو گا ( مشکوۃ شریف)۔
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب بندہ دنیا سے بے رغبتی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں حکمت کا چشمہ جاری کر دیتا ہے۔ اس سے اس کی زبان میں گویائی عطا کرتا ہے اسے دنیا کے عیوب اس کی بیماریوں اور اس کے علاج سے آگاہ کر دیتا ہے۔اور اسے دنیا سے سلامتی کے ساتھ جنت کی طرف لے جاتا ہے۔(بہیقی ، شعب الایمان)۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
ماہ ربیع الاوّل اور ہماری ذمہ داریاں(۱)
ماہ ربیع الاوّل اور ہماری ذمہ داریاں(۱) ماہ ربیع الاوّل تاریخ اسلام کا وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان پر ایک عظیم ...

-
معاشرتی حقوق (۱) اگر کسی قوم کے دل میں باہمی محبت و ایثار کی بجائے نفر ت و عداوت کے جذبات پرورش پا رہے ہوں وہ قوم کبھی بھی سیسہ پلائی د...