اللہ تعالی کی طرف سے بہت ہی آسان فلاح کا راستہ سنیے اور عمل کیجئے تاکہ ہم سب فلاح پا لیں . ہر قسم کی تفرقہ بازی اور مسلکی اختلافات سے بالاتر آسان اور سلیس زبان میں
پیر، 3 مارچ، 2025
فضائل رمضان(۲)
فضائل رمضان(۲)
حضور نبی کریم ﷺ رمضان المبارک کی آمد سے پہلے صحابہ کرام ؓ کو خطبہ ارشاد فرماتے اور ماہ مقدس کے فضائل و برکات بتاتے۔
حضرت سلمان فارسی سے مشکوۃ شریف میں مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ہمارے سامنے خطبہ دیا اور فرمایا : اے مسلمانو تم پر ایک عظیم الشان مہینہ آنے والاہے یہ مہینہ بڑی برکتوں والا ہے اس مہینے میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جسے لیلۃ القدر کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس مہینے کے روزے فرض کیے ہیں اور اس کی راتوں میں قیام کرنا سنت قرار دیا ہے۔ جو بھی مسلمان اس مہینے میں خیر کا کام کرے اس کا ثواب ایسے ہی ہے جیسے اس نے باقی مہینوں میں فرض ادا کیا۔ اور جس نے اس ماہ مقدس میں ایک فرض ادا کیا اسے ستر فرضوں کے برابر اللہ تعالیٰ ثواب عطا فرمائے گا۔
اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہی ہے۔ پھر فرمایا یہ مہینہ غم خواری کا مہینہ ہے اس مہینے میں مومن کارزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو شخص اس ماہ مقدس میں کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرائے گا للہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دے گا اور دوزخ سے نجات عطا فرمائے گا اور روزہ دار کے برابر اسے بھی ثواب دیا جائے گا اور روزہ دار کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں ہو گی۔
صحابہ کرام ؓنے عرض کی یا رسول اللہ ؐ ہمارے پاس اگر اتنا سامان نہ ہو کہ ہم روزہ دار کو روزہ افطار کرا سکیں۔آپ نے فرمایا جو کوئی روزہ دار کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ایک گھونٹ پانی سے بھی روزہ افطار کرا دے گا یا پھر ایک کھجور کھلائے گا یا دودھ پلا دے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے بھی ثواب عطا فرمائے گا۔ اور جو کوئی روزہ دار کو کھانا کھلائے گا تو اللہ تعالیٰ اسے حوض کوثر سے سیراب فرمائے گا اور اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی اور وہ جنت میں چلا جائے گا۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ اس مہینے کا پہلا عشرہ رحمت ، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے۔ تم میں سے جو کوئی اس ماہ مقدس میں اپنے خادموں پر سے بوجھ ہلکا کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور جنت عطا فرمائے گا۔
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹنے کا مہینہ ہے۔ اس ماہ مقدس میں نیکی کا اجر وثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ماہ مقدس کے ہر لمحے سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں زیادہ سے زیادہ رمضان المبارک کی برکتوں اور رحمتوں کوہ سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری عبادات کو قبول فرمائے۔ آمین
اتوار، 2 مارچ، 2025
فضائل رمضان(۱)
فضائل رمضان(۱)
رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے۔ ماہ رمضان برکتوں ، رحمتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ ماہ رمضان کو اس لیے بھی فضیلت حاصل ہے کہ اس مہینے میں قرآن مجید کا نزول ہوا۔ ماہ رمضان کا ہر لمحہ عبادت ، تقویٰ اور نیکیوں کے حصول کا ذریعہ ہے۔قرآن وحدیث کی روشنی میں ماہ رمضان المبارک کے بے شمار فضائل بیان کیے گئے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے ‘‘۔ ( سورۃ البقرۃ )۔
سورۃ البقرہ میں ہی اللہ تعالیٰ روزے کی فرضیت اور اسکے مقاصد کے متعلق ارشاد فرماتا ہے :’’ اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے ، تاکہ تم متقی بن جائو ‘‘۔
قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ سے یہ بات واضح ہو گئی کہ روزے کا مقصد محض بھوک اور پیاس برداشت کرنا نہیں بلکہ تقوی و پرہیز گاری اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے۔ ویسے تو سارے مہینے ہی اللہ تعالیٰ کے ہیں لیکن ماہ رمضان المبارک کو یہ فضیلت بھی حاصل ہے کہ حضور نبی کریم ﷺنے اسے اللہ تعالیٰ کا مہینہ قرار دیا ہے۔آپ ؐنے ارشاد فرمایا کہ شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔
حضرت سیدنا ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب رمضان شریف آتا ہے تو ماہ مقدس کی پہلی رات شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہاتف غیبی سے آواز آتی ہے کہ اے نیک کاموں کے خواہش مند اب بھلائی کے لیے آگے بڑھ اور اے بد عمل انسان اب تو برے عمل سے باز آ جا۔ نبی کریم ﷺنے مزید ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے روزہ دار بندوں کو رمضان المبارک میں روزے رکھنے اور راتوں میں قیام کرنے کی وجہ سے دوزخ سے آ زادی عطا فرماتا ہے۔ ( مسلم شریف)
مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ماہ رمضان میں جنت کے دروازے کھول دیتا ہے اور جہنم کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ بہیقی میں حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ آنے والے رمضان کے لیے سارا سال جنت کو سجایاجاتا ہے لیکن جب رمضان شروع ہوتا ہے تو پہلی شب عرش کے نیچے عطر بیز ہوائیں چلتی ہیں اور جب وہ ہوائیں حورعین کو چھوتی ہیں تو وہ اس سے محظوظ ہوتی ہیں اور دعا کرتی ہیں اے اللہ ہمیں اپنے روزے دار بندوں کا قرب عطا فرما ، اے ہمارے رب ہماری آنکھیں انہیں دیکھ کرٹھنڈی ہوں اور ان کی آنکھیں ہمیں دیکھ کر ٹھنڈی ہوتی رہیں۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
-
معاشرتی حقوق (۱) اگر کسی قوم کے دل میں باہمی محبت و ایثار کی بجائے نفر ت و عداوت کے جذبات پرورش پا رہے ہوں وہ قوم کبھی بھی سیسہ پلائی د...