دل کی بیماریاں اور ان کا علاج(۱)
دل انسانی وجود کا وہ مرکز ہے جہاں سے نیت ، ارادہ ، احساس اور عمل کی سمت متعین ہوتی ہے۔ اگر دل پاکیزہ ہو تو انسان کی ظاہری زندگی بھی سنور جاتی ہے اور اگر دل بیمار ہو جائے تو اس کے اثرات انسان کے کردار ، اخلاق اور معاشرتی رویوں میں نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں دل کی اصلاح پر واضح احکامات موجود ہیں کیونکہ اصل کامیابی کا دارو مدار اسی پر ہے۔ حسد ، تکبر اور بغض وہ باطنی بیماریاں ہیں جو دل کو کھوکھلا کر دیتی ہیں اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دیتی ہیں۔ قیامت کے دن وہ کامیاب ہو گا جو پاکیزہ دل لے کر آئے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر ‘‘۔ ( سورۃ الشعراء )۔
حسد ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسان دوسروں کے پاس اللہ تعالیٰ کی نعمتیں دیکھ کر جلتا ہے وہ کہتا ہے یہ چیز اس کے پاس کیوں ہے میرے پاس ہونی چاہیے تھی۔حضور نبی کریم ﷺ نے سختی کے ساتھ حسد سے بچنے کی تلقین فرمائی اور اسے ہلاک کرنے والی چیز قرار دیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا تا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔( ابو دائود)۔
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : اے مسلمانو یہ خیال رکھنا کہ تم میں وہ چیز پیدا نہ ہو جس کی وجہ سے پہلی امتیں تباہ ہو گئیں اور وہ چیز حسد اور عداوت ہے۔( کنزل العمال )۔
اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں حاسدین کے حسد سے پناہ مانگنے کا حکم فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :(تم فرمائو پناہ لیتا ہوں ) حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے۔(سورۃ الفلق )۔
حسد سے بچنے کا علاج یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہیں اور اس کی تقسیم پر راضی ہو جائیں اور جو کچھ اس نے ہمیں عطا کیا ہے اس پر مالک کائنات کا شکر ادا کریں۔تکبر بھی دل کی ایک خطر ناک بیماری ہے یہ وہ صفت ہے جس کی وجہ سے شیطان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے مردود قرار پایا اور اسے جنت سے نکال دیا گیا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم فرمایا تو شیطان نے سجدہ نہ کیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’ سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہو گیا ‘‘۔ ( سورۃ البقرہ )۔
سورۃ النحل میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تکبر کرنے والے ناپسند ہیں۔ ’’ بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
