نا شکری کا انجام
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔صحت و تندرستی ، ایمان ، رزق، اولاد اور امن و سکون اور اس کے علاوہ بے شمار اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔لیکن انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر بجا نہیں لاتا۔نا شکری محض زبان سے شکر ادا نہ کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کی قدر نہ کرنا بھی ناشکری ہے ،ان کا غلط استعمال کرنا بھی ناشکری ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ نا شکری کا انجام ہمیشہ تباہی ، زوال اور محرومی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی ایک بستی کی کہ امن و اطمینان سے تھی، ہر طرف سے اس کی روزی کثرت سے آتی۔ وہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگی تو اللہ نے اسے یہ سزا چکھائی کہ اسے بھوک اور ڈر کا پہناوا پہنایا بدلہ ان کے کیے کا ‘‘۔ ( سورۃ النحل )۔
اسی طرح سورۃ ابراہیم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر لا اتارا۔وہ جو دوزخ ہے اس کے اندر جائیں گے اور کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ‘‘۔جب ایک قوم نے اللہ تعالیٰ کی ناشکری کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی نعمتوں کو دو زحمتوں سے بدل دیا۔انہیں امن کی جگہ خوف دیا اور اطمینان بھوک اور گھبراہٹ سے بدل دیا۔
ناشکری دراصل ایک روحانی بیماری ہے جو دل کو اندھا اور عقل کو مفلوج کر دیتی ہے۔ شکر گزار انسان نعمت کو دیکھ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرتا ہے اور نا شکرا اسے اپنا کمال سمجھتا ہے اور یہی سوچ اسے غرور ، تکبر اور خود پسندی کی طرف لے جاتی ہے۔ شکر ایمان کی علامت اور ناشکری نفاق کی جڑ ہے۔ شکر گزار بندہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے جبکہ نا شکرا بندہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔نا شکری دل کو سخت کر دیتی اور دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بنتی ہے۔
شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ سے پوچھا گیا کہ شکر کیا ہے۔ آپ نے فرمایا شکر کی حقیقت یہ ہے کہ عاجزی کرتے ہوئے نعمت دینے والے کی نعمت اقرار ہو اور اسی طرح عاجزی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احسان کو مانے اور یہ سمجھ لے کہ وہ شکر ادا کرنے سے عاجز ہے۔ شکر ادا کرنے کا سب سے بہترین طریقہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کرنا ہے ، دل کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے معمور رکھے اور مخلوق خدا کے لیے بھلائی رکھے ، اعضاء کا شکر یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ جسمانی نعمتوں کو اس کی اطاعت کے لیے استعمال کرے اور گناہوں سے بچے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی ایک بستی کی کہ امن و اطمینان سے تھی، ہر طرف سے اس کی روزی کثرت سے آتی۔ وہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگی تو اللہ نے اسے یہ سزا چکھائی کہ اسے بھوک اور ڈر کا پہناوا پہنایا بدلہ ان کے کیے کا ‘‘۔ ( سورۃ النحل )۔
اسی طرح سورۃ ابراہیم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر لا اتارا۔وہ جو دوزخ ہے اس کے اندر جائیں گے اور کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ‘‘۔جب ایک قوم نے اللہ تعالیٰ کی ناشکری کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی نعمتوں کو دو زحمتوں سے بدل دیا۔انہیں امن کی جگہ خوف دیا اور اطمینان بھوک اور گھبراہٹ سے بدل دیا۔
ناشکری دراصل ایک روحانی بیماری ہے جو دل کو اندھا اور عقل کو مفلوج کر دیتی ہے۔ شکر گزار انسان نعمت کو دیکھ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرتا ہے اور نا شکرا اسے اپنا کمال سمجھتا ہے اور یہی سوچ اسے غرور ، تکبر اور خود پسندی کی طرف لے جاتی ہے۔ شکر ایمان کی علامت اور ناشکری نفاق کی جڑ ہے۔ شکر گزار بندہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے جبکہ نا شکرا بندہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔نا شکری دل کو سخت کر دیتی اور دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بنتی ہے۔
شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ سے پوچھا گیا کہ شکر کیا ہے۔ آپ نے فرمایا شکر کی حقیقت یہ ہے کہ عاجزی کرتے ہوئے نعمت دینے والے کی نعمت اقرار ہو اور اسی طرح عاجزی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احسان کو مانے اور یہ سمجھ لے کہ وہ شکر ادا کرنے سے عاجز ہے۔ شکر ادا کرنے کا سب سے بہترین طریقہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کرنا ہے ، دل کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے معمور رکھے اور مخلوق خدا کے لیے بھلائی رکھے ، اعضاء کا شکر یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ جسمانی نعمتوں کو اس کی اطاعت کے لیے استعمال کرے اور گناہوں سے بچے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں