دین سے دوری اختیار کرنے کا انجام
انسان کی زندگی محض کھانے پینے اور دنیاوی کامیابیوں کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مقصد اور امانت کے ساتھ جڑی ہوئی حقیقت ہے۔دین اسلام انسان کو نہ صرف اپنے رب سے جوڑتا ہے بلکہ اسے خود اپنے نفس ، معاشرے اور پوری انسانیت کے ساتھ متوازن تعلق سکھاتا ہے۔ جب انسان شعوری یا لا شعوری طور پر دین سے دوری اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات اس کی ذات کے ساتھ ساتھ معاشرے پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا اور دنیا کی زیست نے انہیں فریب دیا تو آج ہم انہیں چھوڑ دیں گے جیسا انہوں نے اس دن کے ملنے کا خیال چھوڑا تھا اور جیسا ہمار ی آیتوں سے انکارکرتے تھے ‘‘۔ (سورۃ الاعراف )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس قسم کے بندے سے پوچھے گا کیا میں نے تمہیں بیوی ، بچے نہیں دیے تھے ، تمہیں عزت و اکرام سے نہیں نوازا تھا اور کیا اونٹ اور گھوڑے تیرے تابع نہیں کر دیے تھے ، کیا تو سرداری کرتے ہوئے لوگوں سے چونگی وصول نہیں کرتا تھا ؟وہ کہے گا کیوں نہیں۔اے اللہ یہ سب باتیں ٹھیک ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کیا تو میری ملاقات کا یقین رکھتا تھا؟وہ کہے گا نہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا پس جس طرح تو مجھے بھولا رہا اسی طرح آج تجھے بھی فراموش کر دیا جائے گا۔(مسلم شریف )۔
سورۃ طہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’ اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا بیشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے ، کہے گا اے میرے رب مجھے تو نے اندھا کیوں اٹھایا میں تو دیکھ سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا یونہی تیرے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں تو نے انہیں جھٹلا دیا اور ایسے ہی آج تیری کوئی خبر نہ لے گا ‘‘۔
دین سے دوری اخلاقی زوال کا سبب بنتی ہے۔سچائی ، امانت ، حیا اور عدل جیسی اقدار رفتہ رفتہ زندگی سے نکل جاتی ہیں۔ جھوٹ ، دھوکا ، خود غرضی اور ناانصافی عام ہو جاتی ہے کیونکہ انسان کے دل سے یہ احساس ختم ہو جاتا ہے کہ اسے ایک دن اپنے ہر عمل کا حساب کتاب دینا ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔ (جامع صغیر )۔
دین سے دوری وقتی آزادی یا ترقی کا تاثر تو دے سکتی ہے ،مگر اس کا انجام بے سکونی ، اخلاقی تباہی ، معاشرتی بگاڑ اور اخروی خسارے کی صورت میں سامنے آتاہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا اور دنیا کی زیست نے انہیں فریب دیا تو آج ہم انہیں چھوڑ دیں گے جیسا انہوں نے اس دن کے ملنے کا خیال چھوڑا تھا اور جیسا ہمار ی آیتوں سے انکارکرتے تھے ‘‘۔ (سورۃ الاعراف )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس قسم کے بندے سے پوچھے گا کیا میں نے تمہیں بیوی ، بچے نہیں دیے تھے ، تمہیں عزت و اکرام سے نہیں نوازا تھا اور کیا اونٹ اور گھوڑے تیرے تابع نہیں کر دیے تھے ، کیا تو سرداری کرتے ہوئے لوگوں سے چونگی وصول نہیں کرتا تھا ؟وہ کہے گا کیوں نہیں۔اے اللہ یہ سب باتیں ٹھیک ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کیا تو میری ملاقات کا یقین رکھتا تھا؟وہ کہے گا نہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا پس جس طرح تو مجھے بھولا رہا اسی طرح آج تجھے بھی فراموش کر دیا جائے گا۔(مسلم شریف )۔
سورۃ طہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’ اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا بیشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے ، کہے گا اے میرے رب مجھے تو نے اندھا کیوں اٹھایا میں تو دیکھ سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا یونہی تیرے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں تو نے انہیں جھٹلا دیا اور ایسے ہی آج تیری کوئی خبر نہ لے گا ‘‘۔
دین سے دوری اخلاقی زوال کا سبب بنتی ہے۔سچائی ، امانت ، حیا اور عدل جیسی اقدار رفتہ رفتہ زندگی سے نکل جاتی ہیں۔ جھوٹ ، دھوکا ، خود غرضی اور ناانصافی عام ہو جاتی ہے کیونکہ انسان کے دل سے یہ احساس ختم ہو جاتا ہے کہ اسے ایک دن اپنے ہر عمل کا حساب کتاب دینا ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔ (جامع صغیر )۔
دین سے دوری وقتی آزادی یا ترقی کا تاثر تو دے سکتی ہے ،مگر اس کا انجام بے سکونی ، اخلاقی تباہی ، معاشرتی بگاڑ اور اخروی خسارے کی صورت میں سامنے آتاہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں