اسلام میں صلح کرانے کا اجر
اسلام انسانیت ، اخوت و محبت اور بھائی چارے کا علمبردار ہے ۔ قرآن و حدیث میں لوگوں کے درمیان تعلقات کو جوڑنا اور بگاڑ کو دور کرنا پسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے ۔ اسلام میں جہاں نماز ، روزہ ، زکوۃ اور حج جیسی عظیم عبادتوں کو فضیلت حاصل ہے وہیں بندوں کے درمیان صلح کرانے کو بھی عظیم نیکی قرار دیا گیا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :
اور اگر مسلمانوں کے دو گروہوں میں لڑائی ہو جائے تو ان میں صلح کرا۔ اگر ایک دوسرے پر زیادتی کر ے تو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں صلح کرا دو اور عدل کرو بیشک عدل کرنے والے اللہ کو پیارے ہیں ۔ مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو ۔( سورۃالحجرات)۔
صلح کرانا اس قدر نیکی والا عمل ہے کہ اگر دو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بھی بولنا پڑے تو اس پر کچھ گناہ نہیں ۔
حضرت اسمائبنت یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تین مواقع ایسے ہیں جہاں جھوٹ بولنا جائز ہے اس
کے علاوہ جھوت بولنا جائز نہیں ۔ خاوند اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لیے کوئی بات کہے ، جنگ کے دوران جھوٹ بولنا اور لوگوں کے
درمیان صلح کروانے کے لیے جھوٹ بولنا ۔ ( ترمذی )
حضرت ابو دردائرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتاں جو درجے میں نماز ،
روزہ اور زکوۃ سے بھی افضل ہو ؟ عرض کی گئی جی یارسو ل اللہ ﷺ:آپ ﷺنے فرمایا لوگوں کے درمیان صلح کرانا ۔کیونکہ آپس کے
تعلقات کا بگاڑ امن و سلامتی کو تباہ کرنے والا عمل ہے ۔( ابو داد ، ترمذی )۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے بہتر صدقہ دو قرابت داروں میں صلح کرانا
ہے ۔ ( التاریخ الکبر )۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو حضرت ابو ایوب بن زید سے یہ فرماتے ہو ئے سنا کہ اے ایوب
میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاں جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی ہو ؟ انہوں نے عرض کی جی یا رسو ل اللہ ﷺ :نبی کریم ﷺ نے فرمایا
جب لوگوں کے درمیان لڑائی ہو تو ان کے درمیان صلح کرا اور جب ان میں دوریاں پیدا ہو ں تو ان میں قربت پیدا کرو ۔(طبرانی )۔
ہمیں چاہیے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے معاشرے میں صلح و آشتی کے علمبردار بنیں ناراضیوں کو ختم کریں اورمحبت و اتحاد کو فروغ دیں ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں