سود کی مذمت
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اے ایمان والو ! دو گنا در دو گنا سود نہ کھائو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو تا کہ تم کامیابی پائو۔( سورۃ آل عمران )۔
سورۃ البقرۃ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنا دیا ہو۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا، بیع بھی تو سودہی کے مانند ہے اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سود کو۔ جو جسے اس کے رب کے پا س سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے۔ جو پہلے لے چکا اور اس کا کام خدا کے سپرد ہے اور جو اب ایسی حرکت کرے گا تو و ہ دوزخی ہے۔ وہ اس میں مدتوں رہیں گے۔ انہوں نے اس چیز کو حلا ل کہا جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا تھا۔ جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو اٹھائے گا تو وہ تیز تیز چلیں گے۔ لیکن سود کھانے والوں کی یہ حالت ہو گی کہ وہ گریں گے پھر اٹھیں گے۔ کیونکہ ان لوگوں نے دنیا میں سود کھایا تھا جو حرام ہے اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں کو بڑھا دے گا۔وہ بھاری ہو جائیں گے اور جب وہ اٹھنے کا ارادہ کریں گے تو گر جائیں گے۔
حضرت قتادہ ؓسے مروی ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سود خور قیامت کے د ن پاگل کی صورت میں اٹھایا جائے گا اور یہ سود خوروں کی علامت ہو گی جس سے میدان محشر میں ان کی پہچان ہو گی۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مجھے معراج کرائی گئی تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے پیٹ ان کے ہاتھوں کے سامنے تھے۔ ان میں ہر شخص کا پیٹ بہت بڑے مکان کی طرح تھا۔ ان کے پیٹو ں نے انہیں جھکایا ہوا تھا۔ وہ آل فرعو ن کے راستے پر جمع ہوئے اور آل فرعون صبح شام جہنم پر پیش کیے جاتے ہیں۔ وہ بھاگنے والے اونٹوں کی طرح آگے بڑھتے تھے نہ کچھ سنتے تھے نہ کچھ سمجھتے تھے۔ جب ان کو احساس ہوا تو وہ کھڑے ہوئے تو ان کے پیٹوں نے ان کو جھکا دیا اور وہ وہاں سے ہل نہ سکے اور آل فرعون نے ان کو گھیر لیا۔ وہ ان کو آگے پیچھے پھینکتے ہیں۔ یہ دنیا اورآخرت کے درمیان برزخ میں ان کاعذاب ہے۔ میں نے جبرائیل امین سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ دنیا میں سود کھاتے تھے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں