حضور نبی کریمﷺ کی مسکراہٹ
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو سراپا رحمت وشفقت بنا کر بھیجا۔ نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ کا ہر ایک پہلو انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
حضور نبی کریمﷺ کی خوش اخلاقی اور خوش طبعی ایمان والوں کے دلوں کو زندگی بخشتی ہے۔آپ ﷺ کی مسکراہٹ آپﷺ کے علیٰ اخلاق کی سب سے دلکش جھلک تھی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’تو کیسی اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گر د سے پریشان ہوتے تو تم انہیں معاف فرمائو اور ان کی شفاعت کرو ‘‘۔ ( آل عمران)۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کبھی بھی حضور نبی کریم ﷺ کو قہقہ لگا کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپﷺ کا حلق مبارک نظر آئے ،آپ ﷺ صرف مسکراتے تھے ‘‘۔( متفق علیہ )۔
حضرت عبد اللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی مکرمﷺ سے زیادہ مسکرانے والا کوئی نہیں دیکھا۔ ( ترمذی )۔
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر سلام عرض کیا۔ آپ ﷺ کا چہرہ انورخوشی سے جگمگا رہا تھا اور رسول خدا ﷺ جب بھی مسرور ہوتے تو آپ ﷺ کا چہرہ انور یوں نور بار ہو جاتا تھا جیسے وہ چاند کا ٹکڑا ہے۔ ہم آپﷺ کے چہرہ انور سے آپ ﷺ کی خوشی کا اندازہ لگالیا کرتے تھے۔ ( متفق علیہ )۔
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول خدا ﷺ سے سواری کے لیے جانور مانگا ،آپ ﷺ نے مزاح فرمایا میں تجھے اونٹنی کے بچے پر سوار کروں گا۔ اس نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا ؟ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا اونٹنیاں ہی تو اونٹ پیدا کرتی ہیں ہر اونٹ اونٹنی کا بچہ ہوتا ہے۔( ابو دائود ، ترمذی )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی یا رسو ل اللہ ﷺ آپ ہم سے مزاح فرماتے ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا کہ میں مزاح میں بھی سچی بات کے سوا کچھ نہیں بولتا۔ ( ترمذی )۔
حضرت جریر ؓ فرماتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد سے نبی کریمﷺ نے مجھے ملنے سے کبھی نہیں روکا۔آپ ﷺ جب بھی مجھے دیکھتے تو آپ ﷺ تبسم فرماتے۔ میں نے آپ ﷺ سے عرض کی کہ میں جم کر گھوڑے پر نہیں بیٹھ سکتا۔ آپ ﷺنے اپنا دست اقدس میرے سینے پر مارا اور دعا فرمائی کہ اے اللہ اسے جما اور اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔( متفق علیہ )۔
مندرجہ بالا احادیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ مومن کا دل کشاد ہ ہونا چاہیے اور اس کے چہر ے پر مسکراہٹ ہونی چاہیے اور مزاح میں بھی کبھی جھوٹی بات نہیں کہنی چاہیے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں