حضور نبی کریم ؐ کی دنیا سے بے رغبتی اور خشیت الٰہی
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیاوی عیش و عشرت کی بجائے آخرت کو ترجیح دی اور یہ سبق دیا کہ حقیقی کامیابی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے نہ کہ دنیاوی ما ل و دولت یا عیش و عشرت حاصل کرنا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’تم فرمائو کہ تم لوگ اس پر ایمان لائو یا نہ لائو بیشک وہ جنہیں اس کے اترنے سے پہلے علم ملا جب ان پر پڑھا جاتا ہے تو ٹھوڑی کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں پاکی ہے ہمارے رب کو بیشک ہمارے رب کا وعدہ پورا ہونا تھا۔ اورٹھوڑی کے بل گرتے ہیں روتے ہوئے اور یہ قرآن ان کے دل کا جھکنا بڑھاتا ہے‘‘۔ (بنی اسرائیل)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اہل بیت مدینہ منورہ آئے ہیں ، کبھی بھی لگاتار تین دن سیر ہو کر گندم کا کھانا نہیں کھایا۔ (متفق علیہ )
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے بے رغبتی کا عالم یہ تھا کہ آپ نے اپنے اہل خانہ کے لیے بھی سادگی کو پسند فرمایا۔کئی کئی روز گزر جاتے گھر میں چولہا نہ جلتا، کجھور اور پانی پر گزا را کیا جاتا۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے ہاں کبھی جْو کی روٹی نہیں بچی یعنی کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ (ترمذی ، مسند احمد )۔
حضرت عبد اللہ ا بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل کئی راتیں فاقہ سے رہتے۔ آپ کے گھر والوں کے پاس شام کا کھانا نہ ہوتا اور عام طور پر ان کا کھانا جْو کی روٹی ہوتی تھی۔ ( ترمذی ، ابن ماجہ )۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خشیت الٰہی کی وجہ سے راتوں میں قیام کرتے اور ساری ساری رات اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے یہاں تک کہ آپ ؐ کے قدم مبارک میں ورم پڑجاتے۔صحابہ کرام نے عرض کی یارسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں اللہ تعالیٰ آپ ؐسے بے حد پیار فرماتا ہے تو پھر اتنی مشقت کیوں۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنو ں۔ یہ الفاظ آپ ؐ کی خشیت الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کی واضح دلیل ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک کام کیا اور لوگوں کو بھی وہ کام کرنے کی اجازت عطا فرمائی لیکن لوگ اس کام سے دور ہو گئے۔ جب نبی کریم ﷺ کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا: لوگو کیا ہو گیا ہے کہ اس کام سے بچتے ہو جومیں کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی قسم مجھے اللہ تعالیٰ کا لوگوں کی نسبت زیادہ علم ہے اور میں لوگوں کی نسبت زیادہ خشیت الٰہی رکھتا ہوں۔ ( متفق علیہ)۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں