جھوٹی قسم کی مذمت
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے : جو شخص کسی مسلمان کے مال پر ناحق قسم کھائے وہ اللہ تعالی سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہو گا۔ آپ فرماتے ہیں پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی۔
ارشادباری تعالیٰ ہے : بے شک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑا مال لیتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے نہ کلام کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ہی ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔(سورۃ آل عمران )۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جو شخص کسی مسلمان کا حق قسم کے ذریعے ہتھیالے ، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جہنم واجب کی اوراس پر جنت کو حرام کیا۔
ایک شخص نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ تھوڑا ہو ؟ آپؐ نے فرمایا اگرچہ وہ پیلو کی ایک شاخ ہی کیوں نہ ہو۔(مسند امام احمد )۔
حضرت ابو ذرؓسے مروی ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تین قسم کے آدمی وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ کون ہیں ؟ یہ تو ناکام و نا مرادہوئے ، آپ نے فرمایا : تکبر سے کپڑ ا لٹکانے والا،بہت زیادہ احسان جتانے والا اور جھوٹی قسم کے ذریعے سامان بیچنے والا۔( صحیح مسلم )۔
حضرت ابن عمر ؓسے مروی ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے انہیں باپ دادا کے نام کی قسم کھانے سے منع فرمایا ہے پس جس کے لیے قسم کھانا ضروری ہو وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم کھائے یا خاموش رہے۔ ( صحیح بخاری )۔
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص امانت کی قسم کھائے ، وہ ہم میں سے نہیں۔ ( ابی دائود )۔
حضرت بریدہ ؓسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص قسم کھاتے ہوئے قسم کھائے کہ میں اسلام سے بری ہو ں پس اگر وہ جھوٹا ہے تو اسی طرح ہے جیسے اس نے کہا اور اگر سچا ہے تو اسلام کی طرف صحیح سالم واپس نہیں آئے گا۔ ( سنن ابی دائود )۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں