جمعہ، 19 ستمبر، 2025

حضور نبی کریم ﷺ کا لباس مبارک

 

حضور نبی کریم ﷺ کا لباس مبارک

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس مبارک کا انداز بھی سادگی ، پاکیزگی اور اعتدال کا حسین امتزاج تھا۔حضور نبی کریمﷺ سادہ لباس پسند فرماتے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اے جھرمٹ مارنے والے ‘‘۔ ( سورۃ مزمل )۔
سورۃ مدثر میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :اے بالا پوش اوڑھنے والے۔ کھڑے ہو جائو پھر ڈر سنائو۔ اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو۔ اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام کپڑوں میں یمنی سبز چادر اوڑھنا زیادہ پسند تھا۔ ( متفق علیہ )۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑوں میں قمیص سب سے زیادہ پسند تھی۔ ( ترمذی ، ابو دائود )۔
حضرت ابو اسحاق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قد مبارک متوسط تھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو سرخ رنگ کے حلہ میں لپٹا ہوا دیکھا۔میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی شے کو حسین نہیں دیکھا۔ ( متفق علیہ )۔ 
حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ ہمارے پاس ایک موٹی چادر نکال لائیں جو یمن میں بنائی جاتی تھیں اور ایک ایسی چادر جو اون سے بنی ہوئی تھی۔ پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو کپڑوں میں وصال فرمایا تھا۔ ( متفق علیہ )۔
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو آپ سفید کپڑا اوڑھے استراحت فرما رہے تھے۔ ( بخاری )۔
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیوں کہ یہ زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہیں اور ان میں اپنے مْردوں کو کفن دیاکرو۔ (ابو دئود ، ترمذی )۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس بات کی ترغیب بھی دلائی کہ جب بھی کوئی نیا کپڑا پہنا جائے تو اللہ سے یہ دعا کریں۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ئی نیا کپڑا پہنتے تو پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے خواہ قمیص ہو یا امامہ ،پھر دعا کرتے :
ترجمہ : اے اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے یہ کپڑا پہنایا ، میں تجھ سے اس کی خیر اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔( ابو دئود ، ترمذی )۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں