حضور نبی کریم ﷺ کا حسن کلام
پیاری صورت ہنستا چہرہ منہ سے جھڑتے پھول
نور سراپا چاند سا چہرہ سب کا پیارا رسول ﷺ
اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم خاتم النبینﷺ کو ہر وصف میں کامل اور بے مثال بنایا۔ آپﷺ ذات اقدس، اخلاق ، کردار اور گفتار میں حسن کا پیکر تھے۔ جہاں آپ ﷺ کی مسکراہٹ ، نرم دلی اور حلم نے دنیا کو متاثر کیا وہیں آپ ﷺ کا انداز گفتگو بھی اپنی لطافت ، جامعیت اور تاثیر کی وجہ سے بے نظیر تھا۔آپﷺ کا کلا م دلوں کو نرم کرتا ، عقلوں کو روشنی بخشتا اور سننے والوں کے دل میں محبت اور اعتماد پیدا کرتا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اچھی بات کہنا اور در گزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد ستانا۔ اور اللہ بے پرواہ حلم والا ہے ‘‘۔ (البقرۃ)۔
سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو۔ بیشک شیطان ان کے درمیان فساد ڈال دیتا ہے۔ بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ اس انداز سے گفتگو فرماتے کہ اگر کوئی شخص الفاظ گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔( متفق علیہ)۔
ابو دائود اور ترمذی شریف میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ تمہاری مانند تیزی سے مسلسل کلام نہیں فرمایاکرتے تھے بلکہ آپﷺ اس طرح کلام فرماتے کہ کلام کے درمیان وقفہ ہوتا تھا اور پاس بیٹھنے والا اسے یا دکر لیتا تھا۔
حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول خداﷺ بلا ضرورت گفتگو نہ فرماتے۔آپ ﷺ طویل سکوت فرمانے والے تھے۔
آپ ﷺ کے کلام کا آغاز اور اس کا اختتام واضح ہوتا۔ حضور نبی کریم ﷺ کا کلام مختصر مگر جامع ہوتا اور ٹھہر ٹھہر کلام فرماتے تاکہ سننے والے سن کر سمجھ سکیں اور یاد کر لیں۔ الفاظ نہ ضرورت سے زیادہ ہوتے اور نہ اتنے مختصر کہ بات واضح نہ ہو۔آپ ﷺکا کلام نہ درشت ہوتا اور نہ حقارت آمیز۔(طبرانی ، بہیقی )۔
حضرت ام معبد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آپ ﷺ خاموش ہوتے تو بارعب لگتے اور جب آپ ﷺ بولتے تو آپ ﷺ پْر وقار لگتے اور آپﷺ کا کلام موتیوں کے ہار کی مثل ہوتا۔(ابن عساکر )۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں رسو ل خدا ﷺ کے سامنے والے دندان مبارک کشادہ تھے۔ جب آپ ﷺ کلام فرماتے تو یوں نظر آتا گویا آپﷺکے سامنے والے دندان مبارک سے نور کی شعاعیں پھوٹ رہی ہیں۔ ( طبرانی ، دارمی )
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کلام کو تین مرتبہ دہراتے تاکہ آپﷺ کو سننے والے اچھی طرح سمجھ لیں۔ ( بخاری ، ترمذی )۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں