جمعہ، 27 نومبر، 2020

بخشش کے راستے

 

 بخشش کے راستے

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:میں نے جبرئیل علیہ السلام کو خواب میں دیکھاکہ وہ میرے سرہانے کی طرف کھڑے ہیں  اورمیکائیل علیہ السلام میری پاینتی کی طرف کھڑے ہیں،اُن میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا ہے !انکی کوئی مثال بیان کرو۔ دوسرے نے مجھے مخاطب ہوکر کہا!سماعت فرمائیے آپکے گوشِ انور سنتے رہیں اورآپ کاقلب منور سمجھتا رہے!کہ آپ کی مثال اورآپ کی امت کی مثال ایک ایسے بادشاہ کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنوایااوراس میں ایک کمرہ بنوایااورپھر ایک قاصد بھیجاجو لوگوں کو دعوت پر بلالائے ،پس کچھ لوگوں نے اس دعوت کو قبول کیااورکچھ نے اسے ترک کردیا،پس (اس مثال کی تشریح یہ ہے) کہ اللہ تبارک وتعالیٰ بادشاہ ہے وہ گھر اسلام ہے اوراس میں آراستہ کیا گیا کمرہ جنت ہے اوراے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ اللہ کے قاصد ہیں لہٰذا آپ کی دعوت پر جس نے لبیک کہا وہ اسلام میں داخل ہوگیا،اورجو اسلام میں داخل ہوا،وہ جنت میں داخل ہوگیااورجو جنت میں داخل ہوگیا وہ وہاں کی نعمتوں سے شادکام ہوگا۔(بخاری،ترمذی)حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:اللہ تبارک وتعالیٰ کسی مومن کی نیکی کم نہیں فرماتابلکہ دنیا میں بھی اس کا بدلہ عطاکرتا ہے،آخرت میں بھی اس پر ثواب مرحمت فرماتا ہے،مگر کافر کو اس کی نیکیوں کا صلہ دنیا میں نمٹادیتا ہے اورجب وہ آخرت میں پہنچتا ہے ،اس کے پاس ایسی کوئی نیکی نہیں ہوتی ،جس کا وہ اچھا اجر پائے ۔ (مسلم،احمد)حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں،حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو عذاب نہیں دیتا مگر اُس سرکش اور اللہ پر جسارت کرنے والے کو جو لاالہ الااللہ کہنے سے انکارکردے۔ ( ا بن ماجہ)
حضرت فضالۃ بن عبید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ،حضورنبی محتشم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:جو مجھ پر ایمان لایااسلام سے بہرہ مند ہوااورہجرت کی صعوبت برداشت کی ،میں اس شخص کے لیے جنت کے مضافات میں گھر کا ذمہ دار ہوںاورجنت کے عین وسط میں گھر کا ذمہ دار ہوں اورجنت کے اعلی بالاخانے میں گھر کا ذمہ دارہوں ۔پس جو ان اعمال میں پورااترا، اس نے خیرکا کوئی کام ترک نہ کیا،اورشر کے لیے کوئی رہنے کی جگہ نہ چھوڑی،پس وہ جہاں چاہے انتقال کرے۔ (نسائی، مستدرک،ابن حبان ،بیہقی)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں