منگل، 21 جولائی، 2020

عالمگیر پیغام (۱)

عالمگیر پیغام (۱)


خطہء زمین پر انسان کی بودوباش کے بعد اس کی ضروریات دوطرح کی تھیں ۔ ایک جسمانی اور دوسری روحانی ۔ اللہ جو رب العالمین ہے ، اس نے انسان کوکسی بھی اعتبار سے تنہا اور بے یارومددگار نہ رہنے دیا ۔ اللہ نے انسان کے رزق کیلئے زمین کوصلاحیت نمو بخشی ، سمندروں کی وسعت میں اسکے اسباب پیداکیے ۔ سورج کی روشنی اور آسمان کے بادل ممدو معاون ہوئے اسباب وسائل کی فراوانی کے ساتھ ساتھ انسان کو عقل ،شعور بھی عطاکیااور انہیں ان اسباب کو بروئے کار لانے کی صلاحیت سے بھی متصف کیاگیا ۔ یہ کیسے ممکن تھاکہ خدا انسان کیلئے مادی وسائل توبہم پہنچائے ، لیکن روحانی تشنگی کا مداوا نہ کرے ۔ یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ مجرد عقل پر اعتماد کرتے ہوئے انسان صراط مستقیم کا سراغ لگابھی نہیں سکتا۔ انسان کی روحانی اصلاح کیلئے اور اسے ہدایت کی منزل کی طرف گامزن کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے نبوت ورسالت کا مبارک سلسلہ جاری کیا ۔ قرآن اس امر کا واشگاف اعلان کرتا ہے کہ دنیا کی کسی بھی قوم کو اللہ کی اس رحمت سے محروم نہیں کیا گیا ۔کوئی امت ایسی نہیں جس ( اللہ کی طرف سے کوئی ) نذیر ( جنجھوڑنے والانہیں آیا) دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے ۔ ہرقوم کوہدایت دینے والا آیا ہے۔(نمل ۱۶۔۳۶) بے شک ہم نے ہر امت میں رسول مبعوث کیے ہیں۔ ان انبیائے کرام نے اپنے اپنے علاقے میں اور اپنی اپنی قوم میں بڑی محنت ، تند ہی اور جاں فشانی سے اللہ کا پیغام پہنچایا اور مقدور بھر انکی اصلاح کی کوشش کی ، قرآن مقدس ، دیگر مقدس سماویہ اور مذاہب عالم کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت سامنے آتی ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے پہلے جتنے بھی پیغمبر ہادی ،نبی تشریف لائے کسی نہ کسی مخصوص قوم ، علاقے اورمخصوص وقت کیلئے مبعوث ہوئے انہیں ایک مخصوص ذمہ داری دی گئی جسے انہوں نے بطریق احسن نبھایا حضرت نوح ؑکاتذکرہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتاہے ’’بے شک نوح علیہ السلام کو ان قوم کی طرف بھیجاگیا‘‘ (الذاریات ۵۹۔۷) حضرت ہود ؑقوم عاد کی طرف بھیجے گئے ’’ قوم عاد کی طرف انکے بھائی ہود آئے ‘‘( الاعراف ۷۔۶۵) صالح کیلئے کہاگیا(قوم ) ثمود کی طرف انکے بھائی صالح آئے( الاعراف) حضرت شعیب ؑکے متعلق فرمایاگیا۔’’اورمدین کی طرف انکے بھائی شعیب آئے ‘‘(الاعراف) حضرت موسیٰ کا ذکر یوں ہوتاہے ۔’’ ہم نے موسیٰ پرکتاب اتاری اوراسے بنی اسرائیل کیلئے ہدایت بنایا‘‘ (بنی اسرائیل ۱۷۔۲)قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول یوں بیان کیاگیا ہے ’’اور جب عیسٰی ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کارسول ہوں‘‘۔ ( الصف ۶۱۔۶)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں