جمعرات، 4 فروری، 2021

Dars-e-Quran Urdu. Dars No 1648 ( Surah Muhammad Ayat 29 - 30 ) درس قرآن...

Allah Tallah Ki Mulaqat Ka Shooq Kaisay Paida HotaHayاللہ تعالیٰ کی ملاق...

کیا ہمیں بے مقصد پیدا کیا گیا ہے؟

Dars-e-Quran Urdu. Dars No 1647 ( Surah Muhammad Ayat 27 - 28 ) درس قرآن...

حکمتِ صالحین

 

حکمتِ صالحین

حضرت ابوبکر ورّاق رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں ’’انسان تین طرح کے ہوتے ہیں، علماء ، امراء ،فقراء جب علماء خراب ہوجاتے ہیں توخلق کے طاعت اوراحکام تباہ ہوجاتے ہیں ،جب امراء خراب ہوجاتے ہیں تو لوگوں کی معیشت تباہ وبرباد ہوجاتی ہے اورجب فقراء خراب ہوجاتے ہیں تو لوگوں کے اخلاق بگڑجاتے ہیں‘‘۔’’مخدوم سید علی بن عثمان الہجویری رحمۃ اللہ علیہ اس قول کی تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں ‘‘۔ امراء وسلاطین کی خرابی ظلم وستم ، علماء کی حرص وطمع اورفقراء کی خرابی جاہ ومنصب کی آرزو میں رونما ہوتی ہے۔جب تک حکمران (مخلص وبے لوث )اہل علم منہ نہ موڑیں تباہ وخراب نہیں ہوتے ۔جب تک علماء حکمرانوں کی بے جا (صحبت اورچابلوسی) سے اجتناب کریں خراب وبرباد نہیں ہوتے اورجب تک فقراء (معلمین اخلاق) میں جاہ وحشم کی خواہش پیدا نہیں ہوتی تباہ وخراب نہیں ہوتے اس لئے کہ حکمرانوں میں ظلم بے عملی کی وجہ سے علماء میں لالچ بددیانتی کی وجہ سے اورفقراء میں جاہ وحشم کی خواہش بے توکلی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے لہٰذا بے علم حکمران ،بددیانت علماء اوربے توکل فقیر بہت برے ہوتے ہیں۔ عام لوگوں میں خرابیوں کا ظہوراور برائیوں کا صدور ان ہی تین گروہوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ 

حضرت ابوسعید عیسی خرازی ؒارشادفرماتے ہیں، ’’جناب رسالت مآب ﷺکی حدیث کی مطابق اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کے دل کو اس خاصیت پر پیدا کیا ہے کہ جو اس پر احسان کرتا ہے انسان کا دل محبت کے ساتھ اس کی طرف مائل ہوتا ہے ، مجھے ایسے دل پر تعجب ہوتا ہے جو یہ دیکھنے کے باوجود کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے سواء کوئی احسان کرنے والانہیں ہے، خلوص کے ساتھ، اپنے رب کریم کی طرف مائل نہیں ہوتا۔

حضرت مخدوم علیہ الرحمۃ اس قول کی تشریح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: حقیقت یہ ہے کہ وہی احسان کرتا ہے جو جانوں کا حقیقی مالک ہو۔احسان کی تعریف یہ ہے کہ حاجت مندکے ساتھ بھلائی کی جائے اورجو خود دوسرے کا احسان مند ہے وہ بھلاکسی دوسرے پر کیا احسان کرے گا؟چونکہ حقیقی ملکیت اورحقیقی بادشاہت اللہ تبارک وتعالیٰ ہی کو حاصل ہے اورصرف وہی ایک ذات ایسی ہے ،جو کسی دوسرے کے احسان سے بے نیاز ہے جب اللہ رب العزت کے دانا اوربینا بندے اپنے منعم اورمحسن پروردگار کے اس معنی کو دیکھتے اورسمجھتے ہیں تو انکے صاف اورپاکیزہ دل اسکی محبت سے لبریز ہو جاتے ہیں اوروہ اللہ کے ہر غیر سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں۔


بدھ، 3 فروری، 2021

Allah Tallah Ka Deedar Kaisay Mumkin Hay?اللہ تعالیٰ کا دیدار کیسے ممکن ہے؟

مجاہد کا اجر

 

مجاہد کا اجر

حضرت سہل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ ذکر کرتے ہیں کہ غزوہ حنین کے موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے استفسار فرمایا: آج کی رات ہمارا پہرہ کون دے گا؟حضرت انس بن ابی مرثد رضی اللہ عنہ نے عرض کی یارسول اللہ ! یہ سعادت میں حاصل کروں گا۔آپ نے ارشادفرمایا:تو پھر سوار ہوجائو چنانچہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔آپ نے فرمایا : سامنے والی گھاٹی کی طرف رخ کرواوراس کی سب سے بلند چوٹی پر چلے جائو، خوب چوکس ہوکر پہرہ دینا ایسا نہ ہو کہ تمہاری غفلت یا لاپرواہی کی وجہ سے ہمارا لشکر دشمن کے کسی فریب کا شکار ہوجائے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ تعمیل ارشادمیں وہاں چلے گئے ۔جب صبح ہوئی تو آقا علیہ السلام جائے نماز پر تشریف لائے اوردورکعتیں ادافرمائیں پھر آپ نے صحابہ سے استفسار فرمایا:تمہیں اپنے سوارکی کچھ خبر ہے ؟ انھوں نے عرض کی ہمارے پاس ابھی تو کوئی اطلاع نہیں ہے۔اتنے میں فجر کی اقامت شروع ہوگئی صحابہ دیکھ رہے تھے کہ حضور اس دوران بھی گھاٹی کی طرف متوجہ رہے۔نماز کی ادائیگی کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے ارشادفرمایا تمہیں مبارک ہوکہ تمہارا سوار آگیا ہے۔ہم لوگوں نے وادی کی طرف دیکھنا شروع کیا جلدہی درختوں کے درمیان سے انس بن مرثد آتے ہوئے دکھائی دیے ۔وہ قریب آئے اورگھوڑے سے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں سلام عرض کیا۔حضور نے ان سے انکی ڈیوٹی کے احوال پوچھے ۔انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ میں آپکے حکم کیمطابق یہاں سے چلا اورچلتے چلتے وادی کی سب سے اونچی گھاٹی پر پہنچ گیاجہاں پر آپ نے مجھے مامور فرمایا تھا۔میں رات بھر وہاں پہرہ دیتا رہا، جب صبح ہوئی تومیں نے اطراف واکناف کی گھاٹیوں پر بھی چڑھ کر اچھی طرح معائنہ کیا۔مجھے کسی طرف سے بھی کسی دشمن کا کوئی سراغ نہیں ملا۔پوری طرح مطمئن ہوکر آپکے پاس واپس آگیا ہوں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے استفسار فرمایا کیا تم رات کو کسی وقت اپنی سواری سے اترے اورمحواستراحت ہوئے انھوں نے عرض کی یارسول اللہ !نہیں،صرف نماز کی ادائیگی اورطہارت کی غرض سے اتراتھا اوراسکے فوراً بعد سوار ہوکر اپنی ڈیوٹی شروع کردی تھی۔آپ نے ارشادفرمایا:تم نے آج کی رات اللہ رب العزت کے راستے میں پہرہ دے کر اپنے لیے جنت واجب کرلی ہے لہٰذا اس عمل کے بعد اگر تم کبھی کوئی بھی( نفل)عمل نہ کرو تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔(ابودائود)

ماہ ربیع الاوّل اور ہماری ذمہ داریاں(۱)

  ماہ ربیع الاوّل اور ہماری ذمہ داریاں(۱) ماہ ربیع الاوّل تاریخ اسلام کا وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان پر ایک عظیم ...