پیر، 1 جون، 2020

بندگی کیوں ہے؟ - Bandagi Kyoon Hay

Kya Hum Allah Tallah Ki Pakkar Main Aa Chukay Hain?

Maaf Karnay Ki Adaat

معاف کرنے کی عادت

اللہ تعالیٰ کا ارشادہے : ’’اورجب وہ غضب ناک ہوں تو معاف کردیتے ہیں ، اوربرائی کا بدلہ اس کی مثل برائی ہے ، پھر جس نے معاف کردیا اوراصلاح کرلی تو اس کا اجر اللہ (کے ذمہء کرم )پر ہے‘‘۔(الشوریٰ:۴۰)’’اورجس نے صبر کیا اور معاف کردیا تو یقینا یہ ضرور ہمت کے کاموں میں سے ہے‘‘۔(الشوریٰ : ۴۳)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بے حیائی کی باتیں طبعاً کرتے تھے نہ تکلفاً اورنہ بازار میں بلند آواز سے باتیں کرتے تھے ، اوربرائی کا جواب برائی سے نہیں دیتے تھے لیکن معاف کردیتے تھے اور درگذر فرماتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو زیادتی بھی کی گئی میں نے کبھی آپ کو اس زیادتی کا بدلہ لیتے ہوئے نہیں دیکھا بہ شرطیکہ اللہ کی حدود نہ پامال کی جائیں اورجب اللہ کی حد پامال کی جاتی تو آپ اس پر سب سے زیادہ غضب فرماتے، اورآپ کو جب بھی دوچیزوں کا اختیار دیاگیا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بہ شرطیکہ وہ گناہ نہ ہو۔(جامع الترمذی)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب بھی حضور الصلوٰۃ والسلام کو دوچیزوں کا اختیار دیا گیا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بہ شرطیکہ وہ گناہ نہ ہو، اگر وہ گناہ ہوتی تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کا انتقام نہیں لیا، ہاں اگر اللہ کی حد پامال کی جاتیں تو آپ ان کا انتقام لیتے تھے۔ (سنن ابودائود)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا، میں نے ابتداً آپ کا ہاتھ پکڑلیا ، اورمیں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم مجھے فضیلت والے اعمال بتائیے، آپ نے فرمایا : اے عقبہ ، جوتم سے تعلق توڑے اس سے تعلق جوڑو ، جو تم کو محروم کرے ، اس کو عطاکرو، اورجو تم پر ظلم کرے اس سے اعراض کرو۔(مسند احمدبن حنبل)
میمون بن مہران روایت کرتے ہیں کہ ایک دن ان کی باندی ایک پیالہ لے کر آئی جس میں گرم گرم سالن تھا ، ان کے پاس اس وقت مہمان بیٹھے ہوئے تھے، وہ باندی لڑکھڑائی اوران پر وہ شوربا گرگیا، میمون نے اس باندی کو مارنے کا ارادہ کیا، تو باندی نے کہا اے میرے آقا، اللہ تعالیٰ کے اس قول پر عمل کیجئے ، والکاظمین الغیظ ، میمون نے کہا:میں نے اس پر عمل کرلیا (غصہ ضبط کرلیا)اس نے کہا :اس کے بعد کی آیت پر عمل کیجئے والعافین عن الناس میمون نے کہا :میں نے تمہیں معاف کردیا، باندی نے اس پر اس حصہ کی تلاوت کی: واللّٰہ یحب المحسنین میمون نے کہا : میں تمہارے ساتھ نیک سلوک کرتا ہوں اورتم کو آزاد کردیتا ہوں۔(الجامع الاحکام :تبیان القرآن)

اتوار، 31 مئی، 2020

Dars-e-Quran Urdu. Dars No 1401 (Surah Momin Ayat 05 Part-1/2)درس قرآن س...

فرض عبادات کا فلسفہ

فرض عبادات کا فلسفہ

سلام   نے کئی عبادات کو فرض قرار دیا ہے تو بندگی کے اظہار کو انھیں تک محدود نہیں کردیا بلکہ انکے ذریعے سے اطاعت اور فرماںبرداری کا ایک مزاج تشکیل پاتا ہے۔ اور انسانی شخصیت کی ساخت پر داخت ایسے زاویوں پر ہونے لگتی ہے۔ جو اسکی پوری زندگی کو حسن عمل میں ڈھال دیتے ہیں ۔ ’’عام طور پر مشہور ہے کہ شریعت میں چار عبادتیں فرض ہیں، یعنی نماز ،روزہ ،زکوٰ ۃ اور حج ۔ اس سے یہ شبہ نہ ہوکہ ان فرائض کی تخصیص نے عبادت کے وسیع مفہوم کو محدود کردیا ہے۔ درحقیقت یہ چاروں فریضے عبادت کے سینکڑوں وسیع معنوں اور انکے جزئیات کے بے پایاں دفتر کو چار مختلف بابوں میں تقسیم کردیتے ہیں ،جن میں سے ہر ایک فریضہ عبادت اپنے افراد اور جزئیات پر مشتمل اور ان سب کے بیان کا مختصر عنوانِ باب ہے، جس طرح کسی وسیع مضمون کو کسی ایک مختصر سے لفظ یا فقروں میں ادا کرکے اس وسیع مضمون کے سر ے پر لکھ دیتے ہیں، اسی طرح یہ چاروں فرائض درحقیقت انسان کے تمام نیک اعمال اور اچھے کاموں کو چار مختلف عنوانوں میں الگ الگ تقسیم کردیتے ہیں، اس لئے ان چار فرضوں کو بجاطور سے انسان کے اچھے اعمال اور کاموں کے چار اصول ہم کہہ سکتے ہیں۔۱۔ بندوں کے وہ تمام اچھے کام اور نیک اعمال جن کا تعلق تنہا خالق اور مخلوق سے ہے ایک مستقل باب ہے جس کا عنوان نماز ہے، ۲۔ وہ تمام اچھے اور نیک کام جو ہر انسان دوسرے کے فائدہ اور آرام کیلئے کرتا ہے ،صدقہ اور زکوٰۃ ہے۔ ۳۔ خدا کی راہ میں ہر قسم کی جسمانی اور جانی قربانی کرنا کسی اچھے مقصد کے حصول کیلئے تکلیف اور مشقت جھیلنا ، اور نفس کو اس تن پروری اور مادی خواہشوں کی نجاست اور آلودگی سے پاک رکھنا جو کسی اعلیٰ مقصد کی راہ میں حائل ہوتی ہیں ، روزہ ہے، یا یوں کہوکہ ایثار وقربانی کے تمام جزئیات کی سرخی روزہ ہے۔۴۔ دنیائے اسلام میں ملّتِ ابراہیمی کی برادری اوراخوت کی مجسم تشکیل وتنظیم ، مرکزی رشتہء اتحاد کا قیام ،اور اس مرکزی آبادی اورحلال کسبِ روزی کیلئے ذاتی کوشش اور محنت کے باب کا سِر عنوان حج ہے۔ آنحضرت ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ ستونوں پر قائم ہے۔ توحید ورسالت کا اقرار کرنا ۔ نماز پڑھنا ،روزہ رکھنا ، زکوٰۃدینا اور حج کرنا ،پہلی چیز میں عقائد کا تمام دفتر سمٹ جا تاہے،اور بقیہ چار چیزیں ایک مسلمان کے تمام نیک اعمال اور اچھے کاموں کو محیط ہیں، انہیں ستونوں پر اسلام کی وسیع اور عظیم الشان عمارت قائم ہے‘‘۔ (سیرت النبی)

سیدہ کائنات فاطمۃ الزہر ا ؓ(۱)

  سیدہ کائنات فاطمۃ الزہر ا ؓ(۱) سیدہ کائنات مخدومہ کائنات حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا حضورنبی اکرمﷺ کی لخت جگر،حضرت علی شیرخدارضی...