جمعرات، 4 جون، 2020

Ebadat Aur Nafi-e-Rehbaniat

عبادت اور نفی ٔ رہبانیت


حضور اکرم ﷺکے حیات آفریں پیغام کی وجہ سے زندگی کے سارے شعبے ہدایت کی روشنی سے منور ہوگئے۔اسلام نے عبادت کے تصور کو بھی اعتدال و توازن عطاء کیا ۔ اسلام سے قبل عبادت وریاضت کی تعبیر ہی گو یا کہ ترک دنیا، فاقہ کشی وغیرہ سے وابستہ ہو چکی تھی، سمجھا یہ جانے لگا تھا کہ بندہ کس قدر اذیت اور تکلیف اٹھا تا ہے اور خودکو آزار میں مبتلاء کرتا ہے، خدا اتنا ہی خوش ہوتاہے ۔ اور اس اذّیت رسانی سے ہی روح میں پاکیزگی آتی ہے اور اس کی قوتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ چنانچہ یونانی فکر میں اشراقیت ہندئووں میں جوگ، عیسائیوں میں رہبانیت اور بدھوں میں نروان کی خاطر شدید تپسیا کا ظہور اسی تصور کی پیدا وار تھا۔ اسلام نے ان تصورات کی نفی کی،عبادت کو زندگی کی مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا ۔ایک دفعہ کسی غزوہ کے سفر میں ایک صحابی کا گزر ایک ایسے مقام پر ہوا، جہاں ایک غارتھا، قریب ہی ایک پانی کا چشمہ بہہ رہا تھا۔ آس پاس کچھ ہر یالی اور سبزہ بھی تھا۔ انھیں یہ گوشہ عافیت بہت بھلا لگا۔ وہ حضور کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا،یارسول اللہ ! مجھے ایک غار کا سراغ ملا ہے۔ جہاں ضرورت کی ساری چیزیں بھی میسر ہیں۔ جی چاہتا ہے کہ میں گوشہ گیر ہو کرترک دنیا کرلوں۔ آپ نے فرمایا میں یہودیت اور عیسائیت لیکر دنیا میں نہیں آیا ہوں (بلکہ )میں آسان ، سہل اور روشن ابراہیمی دین لیکر آیا ہوں۔(مسند امام احمد بن حنبل)
ایک دفعہ آپ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ دیکھا ایک شخص چلچلاتی ہوئی دھوپ میں برہنہ سرکھڑا ہوا ہے۔ آپ نے استفسار فرمایا یہ شخص کون ہے اور اس نے یہ کیا حالت بنارکھی ہے۔ لوگوں نے بتایا اس کا نام ابواسرائیل ہے اس نے نذرمانی ہے ک وہ کھڑا رہے گا بیٹھے گانہیں اور نہ سایہ میں آرام کریگا اور نہ کسی سے کوئی بات کریگااور یہ بھی کہ مسلسل روزے رکھے گا۔ آپ نے ارشاد فرمایا اس سے کہو کہ بیٹھے ،باتیں کرے ، سایہ میں آرام لے اور اپنا روزہ پورا کرے۔ (بخاری،ابودائود)
اپنے حج کے سفر میں آپ نے ایک ضعیف آدمی کو دیکھا جو خود چلنے کی طاقت نہ رکھتا تھا، اسکے بیٹے اس کو دونوں طرف سے پکڑکر چلا رہے تھے۔ آپ نے دریافت فرما یا ، تو معلوم ہوا کہ اس نے پیدل حج کی نیت کی ہے۔ فرمایا اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ یہ اپنی جان کو اس طرح عذاب میں ڈالے اس کو سوار کرادو۔(ترمذی ،نسائی، ابودائود)

بدھ، 3 جون، 2020

Islami Ebadaat Kay Imtiazaat

اسلامی عبادت کے امتیازات


اسلام نے اپنے دائمی اور سرمدی پیغام کے ذریعے عبادت میں شرک کی ہرطرح کی آمیزش اور بے اعتدالی کوہمیشہ کیلئے نفی کردی ۔ اسلام سے پہلے جبکہ انبیائے کرام کی تعلیمات ذہنوں سے محو ہوچکی تھیں،پوری دنیا ، اصنام پرستی ،مظاہر پرستی اورآباء پرستی میں مبتلاء ہوچکی تھی۔حتیٰ کہ بہت مقامات پر تو حیوان تک معبودوں کا درجہ حاصل کرچکے تھے۔’’جب انسان کاتعلق اپنے خالق حقیقی سے منقطع ہوجاتا ہے اور اس کی فطر ت سلیمہ مسخ ہوجاتی ہے، اسکی عقل وفہم پر پردے پڑجاتا ہے۔اسکی چشم بصیرت بینائی سے محروم ہوجاتی ہے۔ اپنی دانش مندی کے باوجود اس سے اس قسم کی حرکتیں سرزد ہوتی ہیں کہ احمق اور دیوانے بھی ان سے شرمندگی محسوس کرنے لگتے ہیں۔‘‘(ضیاء النبی)۔انسان کی فکری لغزش کااندازا لگانا ہوتو اس بات سے لگائیے کہ ا ہل مکہ کے دومعبودوں کے نام اساف اور نائلہ تھے۔یہ دوافراد اساف بن یعلیٰ اور نائلہ بنت زید تھے۔جنہیں اللہ رب العزت نے بیت اللہ کی حرمت پامال کرنے کی وجہ سے اور وہاں ارتکاب گناہ کرنے کی وجہ سے پتھر بنادیاتھا۔ لوگوں نے انھیں اٹھا کر باہر رکھ دیا تاکہ انکے انجام سے عبر ت حاصل ہو لیکن رفتہ رفتہ ان دونوں کی بھی پوجا شروع ہوگئی۔اسلام نے انسان کو ان تمام خودساختہ معبودوں سے نجات بخشی اور صرف اور صرف ایک ہی ذات پاک کو عبادت کے لائق قرار دیا اور وہ ہے اللہ وحدہٗ لاشریک۔ اسلام نے اللہ رب العز ت کی عبادت کو نہایت سہل اور سادہ انداز میں پیش کیا، اور بے مقصد رسوم و قیود کو یکسر مسترد کردیا ۔ نیت خالص ہو، جسم پاک ہو، لباس پاک ہو ،اتنا ضرور ہو کہ ستر کو ڈھانپ لے، سجدہ گاہ پاک ہواور تم اپنے معبود کے سامنے جھک جائو۔بتوں کی ، شمعوں کی ،بخوروں کی ، تصویروں کی اور سونے چاندی برتنوں یا مخصوص رنگ کے لباس کی کوئی قید نہیں۔ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں مذہبی رسومات مخصوص افراد ہی ادا کرسکتے ہیں۔ یہودیوں میں کاہن وربی ، عیسائیوں میں پادری ،پارسیوں میں موبد،ہندئوںمیں برہمن ، پروہت اور بچاری ۔لیکن یہاں ہر بندہ خدا سے اپنی مناجات خود کرسکتا ہے۔ اجتماعی عبادت کے لیے امامت رنگ، نسل یا خاندان میں محصور نہیں بلکہ اس کا انحصار علم اور تقویٰ پر ہے۔ مذاہب نے اپنے مخصوص عبادت خانوں تک عبادتوں کو محدود رکھا، پوجا کے لیے بت خانہ ، دعاء کے لیے گرجا، اور صومعہ آگ کے لیے آتش کدہ، لیکن اسلام کا تصور عبادت محدود نہیں۔

Insaan Allah Ki Reza Par Kaisay Razi Ho Sakta hay?انسان اللہ تعالیٰ کی رضا پر کیسے راضی ہوسکتا ہے؟

Surah Momin - Kya Hum Jannat Jannay Ki Salaheat Rakhtay Hain?

منگل، 2 جون، 2020

Surah Momin - Kya Kafir Pakkay Dozakhi Hain?

بندگی کے تقاضے - Bandagi Kay Taqazay

Islam Aur Islah-e-Ebadat

اسلام اور اصلاحِ عبادات


مکہء مکرّمہ کی آبادی حضرت ابراہیم ؑاور حضرت اسمعٰیل ؑکے مبارک وجود کی وجہ سے شروع ہوئی۔ اللہ کے یہ پیغمبر دعوت توحید کے علمبردار تھے ۔ حضرت اسمعٰیل ؑکی اولاد واحناف بھی ایک مدّت تک دین حنیف پر کاربند رہے لیکن ایک شخص عمروبن لحی الخزاعی سے عرب میں بت پرستی کا آغاز ہوگیا۔ عمروبن لحی خانہ کعبہ کا متولی تھا،اسے سنگین نوعیت کا کوئی مرض لاحق ہوگیا ۔ کسی نے اسے بتایا کہ ملک شام میں بلقاء کے مقام پر گرم پانی کا ایک چشمہ ہے۔ اگر تم اسکے پانی سے غسل کروگے،تو صحت یا ب ہوجائو گے۔ وہ بلقاء پہنچا ،غسل کیا اور صحت یاب ہوگیا۔ اس نے وہاں کے باسیوں کودیکھا کہ وہ بتوں کی پر ستش کرتے ہیں ۔ اس نے استفسار کیا کہ تم یہ کیا کررہے ہو،انہوں نے بتایا کہ ہم انکے ذریعہ سے بارش طلب کرتے ہیں اور انکے ذریعے دشمن پر فتح حاصل کرتے ہیں۔اس نے کہا مجھے بھی ان بتوں میں سے چند ایک بت دے دو، انہوں نے اس کو چند بت دے دیے وہ ان کو لے کر مکہ واپس آگیا ،اور انھیں خانہ کعبہ کے اردگرد نصب کردیا، بقول ابن خلدون یہیں سے عرب میں بت پرستی کا آغاز ہوا، عمرونے بت پرستی کے علاوہ بھی بہت سی نئی رسومات کاآغاز کیا اور عربوں نے انھیں مذہبی شعار سمجھ کر اختیار کرنا شروع کردیا۔ بت پرستی کی یہ وباء اس شدت سے پھیلی کہ ہر قبیلے نے اپنا الگ الگ خدا بنا لیا ۔ یہاں تک کہ کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب کردیے گئے، اور اسکی وجہ یہ تھی عرب کے سارے قبائل کعبہ کا حج کرنے کیلئے آیا کرتے تھے اس لئے قریش نے ان تمام قبائل کے معبودوں کے بت یہاں یکجا کردیے تھے تاکہ کسی قبیلہ کا آدمی بھی حج کرنے کی نیت سے مکہ میں آئے تو اپنے معبود کے بت کو یہاں دیکھ کر اسکی عقیدت میں اور اضافہ ہواور اسے قریش کی سیادت کو تسلیم کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ ہو، کفّا رومشرکین کے ساتھ عرب میں یہودیوں اور نصاریٰ کی بھی ایک تعداد موجود تھی ،لیکن یہ مذاہب بھی افراط وتقریظ کا شکار ہوچکے تھے۔یہود اپنی بد عملی کے سبب بدنام ہوچکے تھے، جادو،ٹونہ اور عملیات کے توہمات میں گرفتار ہوچکے تھے۔ان میں خدا پرستی ایثار اور روحانی خلوص نام کو بھی نہیں تھا۔صرف ہفتہ کے دن کی تعظیم کو بڑا مذہبی شعار گردانتے تھے۔عیسائیوں نے توحید خالص کو چھوڑ کر حضرت عیسٰی ،حضرت مریم اور مسیحی اکابرین کے مجسمے اور تصویر یں پوجناشروع کردی تھیں ،اور رہبانیت کو اپنا مذہبی شعار بنالیا تھا۔’’یہود کا فسق دین میں کمی اور پستی کرنااور نصاریٰ کافسق دین میں زیادتی اور غلوتھا‘‘۔ ایسے میں اسلا م توحید ،اعتدال اور توازن کا پیغام لے کرآیا۔

سیدہ کائنات فاطمۃ الزہر ا ؓ(۱)

  سیدہ کائنات فاطمۃ الزہر ا ؓ(۱) سیدہ کائنات مخدومہ کائنات حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا حضورنبی اکرمﷺ کی لخت جگر،حضرت علی شیرخدارضی...